منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

حرام کھانے کا نتیجہ کرونا وائرس کی شکل میں نکلا،اگر پاکستان میں بھی سود اور حرام خوری کا نظام چلتا رہا تو کرونا وائرس سمیت قدرتی آفات سے کوئی نہیں بچ سکتا، انتہائی نصیحت آموز باتیں

datetime 30  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)حرام کھانے کا نتیجہ کرونا وائرس کی شکل میں نکلا،اگر اس ملک میں بھی سود اور حرامخوری کا نظام چلتا رہا تو کرونا وائرس سمیت قدرتی آفات سے کوئی نہیں بچ سکتا،اللہ نے قرآن میں ہمیں حکم دیا ہے کہ ”اے لوگو! وہ چیزیں استعمال کرو جو پاک ہیں“ آج حکمرنوں نے پوری معیشت کو سود پر چلاکر بیس کروڑ عوام کو سود ی سرمایہ کاری سے روشناس کراکے ہمیں سود کی لعنت سے دوچار کردیا ہے،

اللہ کی سنت ہے کہ جو قوم فحاشی، سود اور حرام کھانے کی عادی ہوجائے انہیں مالی تنگی اور معاشی بحرانوں کا شکار کردیا جاتا ہے، ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور امن امان کا ناپید ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں اور محمد عربیؐ کی سنت سے بھٹک چکے ہیں اسلئے ہم پر ایسے ظالم حکمران مسلط کردیئے گئے جو خود تو عیاشیوں میں مصروف لیکن پوری قوم کو آٹے کی ایک تھیلے کیلئے قطار میں کھڑا کردیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہارجماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر حافظ نصراللہ عزیز نے منظورکالونی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ مہنگائی کی چیخ وپکار بھی کرتے ہیں اور ایک رومانٹک ڈرامے کی فقط دو قسطیں سینیما گھر میں دیکھنے کیلئے چھ کروڑ روپے خرچ کردیتے ہیں، شادی بیاہ پر ہر روز لاکھوں ٹن کھانا ضائع کیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف ہر روز ہزاروں بچے اپنی ماؤں کی گود میں بھوک سے بلک بلک کر سوجاتے ہیں اور کہیں باپ اپنے لخت جگر کے نئے جوڑے کی فرمائش پوری نہ کرنے پر خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگالیتا ہے، یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں پر اللہ کے دین کے ساتھ دن رات مذاق کیا جاتا ہے لیکن ہماری کان پر جوں بھی نہیں رینگتی، وزراء حریم شاہ اور صندل خٹک کے ساتھ سیلفیاں بنانے میں مصروف لیکن 70افراد زندہ جل گئے انکے خاندانوں کی کوئی داد رسی ہے نہ کوئی فریاد سننے والا۔ نریندر مودی کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بعد اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر چھینے کی بات کرتا ہے تو اس میں حکمرانوں کی کمزوری ہے جنہوں نے ”آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑنے“ کے بیان کے سوا کشمیری عوام کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔

جماعت اسلامی اصلاح معاشرہ، ملک میں محمد عربیؐ کے نظام کو نافذ کرنے اور سودی نظام معیشت کے خاتمے کیلئے روز اول سے جدوجہد میں مصروف عمل ہے لیکن قوم نے کبھی روٹی کپڑا اور مکان تو کبھی تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے کے دعویدار جھوٹے حکمرانوں کو ووٹ دیکر اپنے اوپر مسلط کی جن کی وجہ سے آج عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام ان جھوٹے اور مغرب کے حواری سود خور حکمرانوں کو پہچان لے اور دیانتدار امین سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں جماعت اسلامی کے اہل لوگوں کو منتخب کرے تاکہ ملک کی ترقی اور عوام کو مہنگائی، بیروزگاری سمیت تمام مسائل سے نجات مل سکے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…