جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پی ٹی ایم سے مذاکرات اپنی جگہ، کوئی قانون توڑے گا تو گرفتار کیا جائیگا، وزیر داخلہ نے وزیراعظم عمران خان کا موقف بھی پیش کر دیا

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیرِ برائے داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے مذاکرات اپنی جگہ لیکن اگر کوئی ملک کا قانون توڑے گا تو انھیں گرفتار کیا جائے گا۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ پاکستانی شہری ہیں انھوں نے ملک کا قانون توڑا ہے۔ اسی لیے ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جہاں تک پختونوں کی بات ہے، پختون اس حکومت کے ساتھ ہیں۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ اگر آپ ملک کا قانون توڑیں گے، تو آپ کو گرفتار کیا جائے گا۔ انھوں نے ملک کا قانون توڑا ہوگا تبھی ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔مذاکرات کی بات پر وفاقی وزیر برائے داخلہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا موقف ہے کہ اگر آپ کسی چیز کا حل چاہتے ہیں تو ٹیبل پر آئیں۔ جنگ سے، لڑائی سے کوئی چیز حل نہیں ہوتی۔ اور یہ ملک کے لیے، قبائل کے لیے اور برادری کے لیے اچھا ہے۔پاکستان کے پختونوں کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاں تک بات ہے پختونوں کی۔ تو ہماری جماعت کی دو تہائی اکثریت ہے۔ عمران خان پختونوں اور قبائلی علاقوں میں اپنے ضلعے سے زیادہ مشہور ہیں۔ جو انھوں نے سابق قبائلی علاقوں کے انضمام اور پختونوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے بارے میں کیا ہے وہ کسی اور سیاسی رہنما نے نہیں کیا۔ تو رہنما کون ہوا پشتین یا عمران خان؟لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اب تک پی ٹی ایم پرامن طریقے سے ملک بھر میں احتجاج کرتی آئی ہے۔ تو جب ان سے مذاکرات کی باتیں ہو ہی رہی ہیں تو ان سے ٹیبل پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟ اس پر اعجاز شاہ نے کہا ٹیبل پر بھی بات ہو رہی ہے۔ اب میں آپ سے ٹیبل پر بات کررہا ہوں، آپ جا کر ایک آدمی کا قتل کر آئیں یا کوئی جرم کرلیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ آپ مجھ سے بات کر رہی ہیں، تو میں آپ کو پکڑوں ہی نہیں؟ قانون ساز اداروں کو اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ جو بات کرنے والے ہیں وہ کر رہے ہیں۔ اگر وہ غلط کام کریں گے تو پکڑے جائیں گے۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ

میں یہ نہیں کہہ رہا خدانخواستہ کہ انھوں نے کسی کا قتل کیا ہے۔ میں مثال دے رہا ہوں۔ ان کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان میں مقدمہ درج ہوا ہے جس کے بعد ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کل پرسوں جو ان کے دوسرے رکنِ قومی اسمبلی ہیں، وہ بہت اچھے انسان ہیں، وہ ملک اور اداروں کے خلاف غلط الفاظ استعمال کررہے تھے۔ اور ان کو پکڑ لیا گیا، یہ کل کی بات ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج کرنے کا مہذب طریقہ بھی ہے۔ لیکن یہ طریقہ غلط ہے۔ وہ غلط طریقے سے احتجاج کر رہے تھے۔ عدالتیں آزاد ہیں،عدالتیں مقدمے کا فیصلہ کریں گی۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…