بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

وزارت خارجہ نے  کس کام کیلئے چھ ارب تیس کروڑ پچاس لاکھ روپے مانگ لئے، کمیٹی اراکین نے مخالفت کر دی

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزارت خارجہ نے ترقیاتی منصوبوں کیلئے چھ ارب تیس کروڑ روپے پچاس لاکھ روپے مانگ لئے ہیں ۔ منگل کو ملک احسان اللہ ٹوانہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خارجہ امور کا اجلاس ہوا جس میں وزارت خارجہ اور اس کے ذیلی اداروں کے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ پر غور کیا گیا ،وزارت خارجہ نے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 6ارب 30کروڑ پچاس لاکھ مانگ لیے ۔

اسپیشل سیکرٹری معظم خان نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کابل قونصلیٹ کو اپ گریڈ کریں گے کیونکہ گزشتہ سال چھ لاکھ لوگوں کو افغانسان کے ویزے جاری کیے ،کابل اور جلال آباد قونصل خانے میں اتنی جگہ نہیں رہی ،دبئی عمان کابل میں قونصلیٹ خانون کو اپ گریڈ کرنے کیلئے چھ ارب تیس کروڑ درکار ہیں کمیٹی ارکان نے اکثریت منصوبوں کی مخالف کرتے ہوئے کہاکہ اس سے وزیر اعظم کی کفایت شعاری مہم متاثر ہوگی۔اجلاس میں زہرہ ودئود فاطمی نے چین میں کرونا وائرس کا معاملہ اٹھا دیا اور کہاکہ بتایا جائے وہاں پر کتنے پاکستانی  طلبا  ہیں ،کیا کوئی پاکستانی متاثر ہو۔اسپیشل سیکرٹری وزارت خارجہ نے کہاکہ چین میں پاکستان کے پانچ سو آٹھ طلبا زیر تعلیم ہیں ،چین نے اس پورے شہر کو لاک ڈائون کیا ہے ،ابھی تک کسی پاکستانی کے متاثر ہونے کی خبر نہیں ملی ۔ زہرہ ودئود فاطمی نے کہاکہ چین میں طلبا کو کھانے سمیت دیگر معاملات پر سفارتخانہ تعاون نہیں کر رہا ،جسطرح کے پیغامات آ رہے ہیں وہ تشویش ناک ہیں ۔اسپیشل سیکرٹری دفتر خارجہ نے کرونا وائرئس پر بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ طلبہ کو کھانے یونیورسٹیز مہیا کر رہی ہیں۔ ملک احسان اللہ نے کہاکہ یہ وائرئس جانوروں سے پھیلا ہے ، ابھی تک اس کی دوا تشخیص نہیں ہوئی ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ بہ وائرئس زیادہ تر کم قوت مدافعت والوں کو متاثر کرتا ہے ،طلبہ میں قوت مدافعت زیادہ ہے متاثر کم ہونگے ۔ اسپیشل سیکرٹری خارجہ نے کہاکہ چین نے شہر کی ناکہ بندی کر دی آنا جانا مشکل ہے ،چین کی حکومت بہتر اقدامات کر رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے بھی انیس انٹری مقامات پر اسکریننگ شروع کر دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…