جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس کا بڑھتاخطرہ، پاکستان کا ہنگامی اقدام سی پیک پر کام کرنیوالے چینی باشندوں سے متعلق اہم فیصلہ کرلیا گیا

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

ٓاسلام آباد ( آن لائن )پاکستان میں وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو کورونا وائرس سے بچائو کے حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کردی ہے، جبکہ وفاقی سطح پر وائرس کے پیش نظر ایمرجنسی آپریشن سیل بنایا گیا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق کورونا وائرس کھانسی، زکام اور بخار کی طرح کی علامات رکھتا ہے جس سے احتیاط صفائی ستھرائی اور پانی ابال کر زیادہ سے زیادہ پینا ہے۔ کورونا وائرس سے نمونیا جیسی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں .وفاقی حکومت کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ چینی سال کے اختتام پر 8 فروری کے بعد سے ملک میں چین سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ بڑھ جائے گا۔کورونا وائرس کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے وسیع پیمانے پر مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹس، سی پورٹس اور لینڈ کراسنگ پر مسافروں کی مانیٹرنگ بڑھا دی گئی ہے۔وفاقی وزارت صحت کے مطابق ملتان کے نشتر اسپتال میں 175 چینی باشندوں کا طبی معائنہ کیا گیا جن میں سے تمام افراد صحت مند ہیں ، ملک میں اب تک ایک بھی کورونا وائرس کا کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ پنجاب پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں ، ترجما ن پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی اسکریننگ بھی کی جائے گی۔محکمہ پولیس کی جانب سے چینی باشندوں کی سیکیورٹی پر مامور 10 ہزار پولیس اہلکاروں کو بھی ماسک فراہم کر دیے گئے۔

کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز سے بھی رابطے میں ہیں۔واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے چین میں اب تک 56 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ دو ہزار سے زائد متاثر ہیں۔چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس اب تک 56 افراد کو موت کی نیند سلا چکا ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق وائرس اب تک 2 ہزار سے زائد افراد کو اپنا نشانہ بنا چکا ہے جس میں سے 95 فیصد کا تعلق چین کے شہر ووہان سے ہے۔تھائی لینڈ، جاپان، تائیوان، امریکا اور جنوبی کوریا کے شہریوں کو بھی کورونا وائرس نے متاثر کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…