منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

ملکی معیشت کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا ہے، صوبائی وزیرحکومت پر برس پڑے،سنگین الزامات عائد کر دیئے

datetime 26  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)صوبائی وزیر برائے صنعت، تجارت و امداد باہمی سندھ جام اکرام اللہ دھاریجو نے سلیکٹیڈ حکومت کے سلیکٹیڈ وزرا کے بیانات پراپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹیڈ حکومت کے وزرا ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں اس ضمن میں جھوٹ میڈیا میں اچھال کر عوام کو جھوٹی تسلیاں دینے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے

اعدادوشمار چیخ چیخ کر بول رہے ہیں جبکہ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ، صنعتکاروں کو سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث معیشت بیٹھ چکی ہے۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ ملکی صنعتیں بند ہو رہی ہیں کارخانے چلیں گی تو روزگار آئے گا اور معیشت پروان چڑھے گی، لیکن اس کے برعکس ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا گیا ہے۔ جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ ملکی خسارہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے جبکہ نااہل حکومت مزید نااہلی دکھا کر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کئے جا رہی ہے البتہ غیرترقیاتی اخراجات بڑھا کر ملکی معیشت کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر غیر ملکی قرضہ جات کی فراہمی بند ہوئی تو معیشت کی سانسیں آخری ہچکیاں لے چکی ہوگی اس لیے ایکسپورٹ میں اضافہ کے لیے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے اگر ایکسپورٹ ہوگی تو ملک میں پیسہ آئے گا لیکن جب کارخانے بند ہونگے تو پیسہ کہاں سے آئے گا معیشت کو موجودہ خراب حالات سے نکالنے کے لیے صنتکاروں کو سہولتیں فراہم کرنی ہونگی اس ضمن میں موجودہ ٹیکس سسٹم پر انڈسٹری ایکسپورٹ نہیں بڑھا سکتی ۔ صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت اور امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ جی ایس ٹی کو نیچے لائے کیونکہ ایکسپورٹ کے علاوہ ملک میں پیسہ آہی نہیں سکتا۔ صوبائی وزیر صنعت، تجارت و امداد باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے مزید کہا کہ نااہل حکومت ملک کو قرضوں کی دلدل میں مسلسل دھکیل رہے ہیں جو اگے چل کر ملک کی تباہی کا باعث ہوں گے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…