بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سبسڈی والی سستی گندم فراہم کرنے کے نام پرکروڑوں روپے کا ہیرپھیر،آٹے بحران کے دوران محکمہ فوڈ میں بڑے کھانچے کاانکشاف

datetime 23  جنوری‬‮  2020 |

سجاول (آن لائن) آٹے بحران کے دوران محکمہ فوڈ میں بڑے کھانچے کاانکشاف ہواہے، ذرائع کاکہناہے کہ محکمہ فوڈ کے گوداموں میں خریدی گئی گندم کو بڑے پیمانے پر چوری کرکے فروخت کردیاجاتاہے اور اس کی جگہ بیکاراور مٹی آلودہ گندم بھردی جاتی جبکہ بڑے پیمانے پر بارشوں میں گندم خراب ہونے کابہانہ بھی بنایاجاتاہے،

گوداموں سے چوری کے علاوہ جعلی چکیوں کے نام کوٹے پر گندم فراہم کرنے کافراڈ بھی کیاجارہاتھا، مختلف علاقوں میں آٹے چکیوں کے نام سبسڈی والی سستی گندم فراہم کرنے کے نام کروڑوں روپے کا ہیرپھیرکیاجارہاتھا، جبکہ بندچکیوں کے مالکان سے ملی بھگت کرکے ماہوارلاکھوں روپے بٹورے جارہے تھے یہ گندم بالاہی بالامہنگے داموں مارکیٹ یا فلورملزکو مل رہی تھیں، تاہم زیادہ وافرگندم ہونے کے باوجود فلورملزکے ریٹ بھی تاجروں کی ملی بھگت اور ذخیرا اندوزی سے زیادہ وصول کئے جارہے تھے، سندہ سمیت ملک بھرمیں گندم کی کوئی قلت نہیں لیکن اس کے باوجود فلورملزاور تاجروں، محکمہ فوڈ اور پرائس کنٹرول کی ملی بھگت سے عوام سے آٹے کے دگنے پیسے وصول کئے جارہے ہیں۔محکمہ فوڈ کی جانب سے جعلی اور بندچکیوں سمیت تمام فلورملزکو فراہم کی جانے والی گندم کی کوٹاپرکی تحقیقات کی ضرورت ہے جبکہ گوداموں میں خراب بتائی گئی گندم کے متعلق کرمنل پروسیجرکے تحت تحقیقات سے بڑے بڑے مگرمچھوں کے نام ظاہرہونے کاامکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…