بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سبسڈی والی سستی گندم فراہم کرنے کے نام پرکروڑوں روپے کا ہیرپھیر،آٹے بحران کے دوران محکمہ فوڈ میں بڑے کھانچے کاانکشاف

datetime 23  جنوری‬‮  2020 |

سجاول (آن لائن) آٹے بحران کے دوران محکمہ فوڈ میں بڑے کھانچے کاانکشاف ہواہے، ذرائع کاکہناہے کہ محکمہ فوڈ کے گوداموں میں خریدی گئی گندم کو بڑے پیمانے پر چوری کرکے فروخت کردیاجاتاہے اور اس کی جگہ بیکاراور مٹی آلودہ گندم بھردی جاتی جبکہ بڑے پیمانے پر بارشوں میں گندم خراب ہونے کابہانہ بھی بنایاجاتاہے،

گوداموں سے چوری کے علاوہ جعلی چکیوں کے نام کوٹے پر گندم فراہم کرنے کافراڈ بھی کیاجارہاتھا، مختلف علاقوں میں آٹے چکیوں کے نام سبسڈی والی سستی گندم فراہم کرنے کے نام کروڑوں روپے کا ہیرپھیرکیاجارہاتھا، جبکہ بندچکیوں کے مالکان سے ملی بھگت کرکے ماہوارلاکھوں روپے بٹورے جارہے تھے یہ گندم بالاہی بالامہنگے داموں مارکیٹ یا فلورملزکو مل رہی تھیں، تاہم زیادہ وافرگندم ہونے کے باوجود فلورملزکے ریٹ بھی تاجروں کی ملی بھگت اور ذخیرا اندوزی سے زیادہ وصول کئے جارہے تھے، سندہ سمیت ملک بھرمیں گندم کی کوئی قلت نہیں لیکن اس کے باوجود فلورملزاور تاجروں، محکمہ فوڈ اور پرائس کنٹرول کی ملی بھگت سے عوام سے آٹے کے دگنے پیسے وصول کئے جارہے ہیں۔محکمہ فوڈ کی جانب سے جعلی اور بندچکیوں سمیت تمام فلورملزکو فراہم کی جانے والی گندم کی کوٹاپرکی تحقیقات کی ضرورت ہے جبکہ گوداموں میں خراب بتائی گئی گندم کے متعلق کرمنل پروسیجرکے تحت تحقیقات سے بڑے بڑے مگرمچھوں کے نام ظاہرہونے کاامکان ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…