پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بچی سے زیادتی انتقام لینے کے لئے کی، ملزم کے ساتھ بچی کے ماموں نے انتہائی گھناؤنا کام کیا، مرکزی ملزم کے افسوسناک انکشافات

datetime 23  جنوری‬‮  2020 |

نوشہرہ(این این آئی) بچی کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کرنے والے ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ مقتولہ حوض نور کے ماموں نے حجرے میں مجھے دو مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔نوشہرہ میں بچی حوض نور کے قتل کیس کے مرکزی ملزم ابدار کے اعترافی بیان کی کاپی منظر عام پر آگئی بیان کے مطابق ملزم ابدار کا کہنا ہے کہ حوض نور کے ماموں شہزاد نے مجھے دو دفعہ اپنے حجرے میں بلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا

جس کے بعد اس نے انتقام لینے کے لیے حوض نور سے تعلق بنایا۔ملزم نے بتایا کہ خواہش پوری کرنے سے انکار پر نور کو پانی کی ٹینکی میں پھینک دیا، نکلنے کی کوشش کے دوران اس نے نور کی گلا دبا دیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ملزم نے مزید بتایاکہ لاش ملنے پر بچی کے والدین میرے گھر پہنچ گئے اور حجرے لے جا کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا پھر پولیس مجھے تھانے لے آئی۔ڈی پی او نوشہرہ کاشف ذوالفقار نے بتایا کہ حوض نور کے نمونے ڈی این اے کے لیے خیبر میڈیکل کالج بھیجے گئے اور مزید بہتر نتائج کے لیے نمونے پنجاب فورنزک لیب بھیج دیے گئے ہیں، ملزم کے خون کے نمونے بھی لاہور بھیجے گئے ہیں۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے نوشہرہ میں بچی سے زیادتی کیس سے متعلق کمیٹی قائم کردی ہے جسے ایک ماہ میں سخت ترین سزاؤں کے حوالے سے حتمی سفارشات اور قانونی ڈرافٹ تیار کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلی نے کہا کے ہم صوبے میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن حد تک جائیں گے۔وزیر اعلیٰ محمود خان نے اسپیکر صوبائی اسمبلی سے رابطہ کرتے ہوئے اسپیشل کمیٹی برائے چائلڈ پروٹیکشن کو فوری طور پر فعال بنانے کی درخواست بھی کی۔واضح رہے کہ 20 جنوری کو 7 سالہ حوض نور کی لاش کھیت کے قریب ٹینک سے ملی، علاقہ مکینوں نے بچی کے ساتھ زیادتی کے الزام میں دو ملزمان کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…