بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پراسیکیوشن فواد حسن فواد کیخلاف کوئی بھی پراپرٹی ثابت نہیں کر سکی،تحریری فیصلہ جاری، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری کی کل رہائی کا امکان

datetime 23  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں سابق وزیر اعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی ضمانت پر رہائی کے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پراسیکیوشن فواد حسن فواد کے خلاف کوئی بھی پراپرٹی ثابت نہیں کر سکی۔لاہور ہائیکورٹ کے ججز جسٹس طارق عباسی اور جسٹس چوہدری مشتاق پر مشتمل دو رکنی بنچ نے نے فواد حسن فواد کی ضمانت کا چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فواد حسن فواد 1 سال اور 7 ماہ جیل میں قید رہے۔ فواد حسن فواد سمیت دیگر ملزمان پر ابھی تک فرد جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔ فواد حسن فواد کیخلاف جاری کیس میں ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ ملزم کیخلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ اس نے پراپرٹی خریدی، فروخت یا منتقل کی ہو۔عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ جن لوگوں کے نام پر جائیدادیں ہیں ان کو گرفتار ہی نہیں کیا گیا۔ جن کے نام پر اثاثے ہیں انہیں ریفرننس میں نامزد کیا گیا۔ریفرننس میں کوئی بھی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ اثاثے فواد حسن فواد کے ہیں۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو تفتیش کے مرحلے میں گرفتار کرلیا گیا۔ درخواست گزار کا کسی بھی جائیداد یا کاروبار سے گٹھ جوڑ ثابت نہیں کیا گیا کیونکہ آج تک ملزم پر لگے الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت ملزم کی ضمانت منظور کرتی ہے، ملزم کو غیر معینہ مدت تک سلاخوں کے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت ملزم کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ بطور ضمانت دو مچلکے جمع کروائیں۔دریں اثنا ء لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت کے تحریری فیصلے میں تاریخ کی غلطی کے باعث فواد حسن فواد آمدن کی اثاثہ جات کیس میں روبکار جاری نہ ہوسکی۔ احتساب عدالت کے ایڈمن جج امیر محمد خان عدالتی وقت ختم ہونے پر عدالت سے روانہ ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق فواد حسن فواد کی جمعہ کے روز رہائی کا امکان ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…