جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

حکومتی ایکشن، کارروائیاں بے سود،ملکی تاریخ میں، پہلی بار آٹے کی قیمت70روپے کلو سے بھی اوپرپہنچ گئی،عوام پس کر رہ گئے

datetime 21  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن) ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول نہ پایا جا سکا، کراچی سے گلگت تک آٹا 75 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ شہری مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ پشاور اور ہزارہ سمیت بیشتر شہروں میں تندور بند ہونے سے بھی لوگ پریشانی سے دوچار ہیں۔

ملتان میں آٹے کے مصنوعی بحران کے سبب عام مارکیٹ میں قلت ہونے پر شہری مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔حکومتی ایکشن، کارروائیاں سب بے سود، ملک بھر میں آٹے کا بحران برقرار، عوام اذیت سے دوچار ہیں۔ کراچی سے گلگت تک آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کا جینا مشکل بنا دیا۔ کئی شہروں میں آٹے کی قیمت 75 روپے کلو تک پہنچ گئی۔ ریلیف سینٹر بھی شہریوں کو ریلیف نہ دے سکے۔لاہور، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں آٹا 70 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے، لاہور میں آٹا چند روز میں مزید 6 روپے مہنگا ہوا۔پشاور اور ہزارہ سمیت بیشتر شہروں میں تندور بند پڑے ہیں ،روٹی کے حصول کیلئے شہری دربدر ہیں۔ حکومت کی جانب سے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امپورٹرز کے مطابق تمام سفری لاگت اور بین الاقوامی گندم کی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے فی کلو درآمدی گندم 45 روپے میں پڑے گی۔ملتان کی عام مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت 2400 روپے سے تجاوز کر گئی ہے جس سے دکانوں پر دیسی آٹے کی فی کلو قیمت 64 روپے جبکہ سفید آٹے کی 80 روپے تک وصول کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے تندو مالکان نے بھی سادہ، خمیری اور نان کی قیمت میں 2 روپے تک کا مزید اضافہ کر دیا ہے جس سے سستا آٹا اور روٹی خریدنا شہریوں کیلیے مشکل ہو گیا ہے۔

یوٹیلیٹی اسٹورز اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختص پوائنٹس پر سستا آٹا دستیاب نہیں لیکن اسکے باوجود ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دس کلو تھیلے کی سرکاری قیمت 402 روپے مقرر کر کے آٹے کی فراہمی کیلئے 80 پوائنٹس قائم کر دئیے ہیں جن پر روزانہ بیس کلو کے 29 ہزار 335 تھیلے فراہم کر نے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے حوالے سے شکایات موصول ہونے پر کارروائیاں بھی کر رہے ہیں۔سستا آٹا نایاب ہونے پر تنوروں پر سادہ روٹی کی قیمت 12 روپے، خمیری کے 14 جبکہ نان کے 20 روپے وصول کیے جارہے ہیں اور موجودہ صورتحال میں آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ہونے پر شہریوں کی معاشی مشکلات کافی حدتک بڑھ گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…