جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر پر تنازع، بھارت نے ملائیشیا، ترکی کیساتھ وہ کام کردیا جو دونوں ممالک کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

datetime 16  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کے سرکاری عہدیدارنے کہاہے کہ بھارت کشمیر کے حوالے سے بھارتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے بدلے میں ترکی سے درآمدات کو کم کرنے اور ملائیشیا سے پام آئل، تیل، گیس سمیت دیگر مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

خوردنی تیل کا دنیا کے سب سے بڑے خریدار بھارت نے پہلے ہی ملائیشیا سے پام آئل کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اپنے درآمد کاروں کو دیگر مارکیٹوں سے خریداری کرنے کا کہا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت کے دو سرکاری حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارت نے ملائیشیا سے پیٹرولیم، المونیم، لیکوئیفائڈ نیچرل گیس، کمپیوٹر پارٹس اور مائیکروپروسیسرز کی خریداری پر پابندی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ حکومت ترکی سے تیل اور اسٹیل کی مصنوعات کی درآمد کو بھی روکنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے ملائیشیا اور ترکی کی رائے کو قبول نہیں کیا ہے اور ہم دونوں ممالک کی تجارت روکیں گے۔بھارتی وزارت تجارت نے اس حوالے سے رائے کے لیے کیے گئے ای میل کا جواب نہیں دیا۔واضح رہے کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے حال ہی میں کہا تھا کہ بھارت جموں و کشمیر پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کر رہا ہے۔دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو پابندیوں کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…