منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

6 ماہ میں ترسیلات زر کتنی ہوئی؟ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ترسیلات زر کا ہدف مکمل ہونے کی پیشگوئی کر دی گئی

datetime 13  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ترسیلات زر 11.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ وزارت خزانہ کے اعلامیہ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک ترسیلات زر کا حجم 24 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچ جائے گا۔وزارت خزانہ کے مطابق نئے حکومتی اقدامات کے باعث رواں مالی سال کے دوسری ششمائی میں ترسیلات زر میں اضافہ ہو گا وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ 5 سالوں کے اعداد وشمار کے مطابق رمضان اور عید الفطر کے تہوار کی وجہ سے ترسیلات زر کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا

وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کا 24 ارب ڈالر ترسیلات زر کا ہدف آسانی سے عبور ہو جائے کا امکان ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں نے دسمبر 2019ء میں 2.097 ارب ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھجوائیں وزارت خزانہ کے مطابق نومبر2019ء کے مہینے میں ترسیلات زر کا حجم 1.819 ارب ڈالر رہا تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق پاکستانی کے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری سے وہاں کے کاروباری طبقے کا پاکستانی افرادی قوت پر اعتماد بڑھا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق ان ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی مانگ اور کھپت میں اضافہ ہوا ہے۔دسمبر2019ء سے بیرون ملک سے ایک سو ڈالر سے زائد اور دو سو ڈالر سے کم ترسیلات زر پاکستان بھجوانے پر اٹھنے والے دس سعودی ریال کے برابر لاگت کے مساوی رقم واپس کی جائے گی۔اسی طرح دو سو ڈالر یا اس سے زائد حجم کی ترسیلات زر کے پاکستان بھجوانے پر بیس سعودی ریال کے برابر اٹھنے والے اخراجات کی واپسی کا سلسلہ جاری رہے گا۔وزارت خزانہ کے مطابق ترسیلات زر میں اضافہ کے لیے حکومتی اقدامات بالخصوص ٹی ٹی چارجز سکیم کے تحت ترسیلات وطن بھجوانے پر اٹھنے والے اخراجات کی واپسی، ادائیگیوں کے نظام میں خاطر خواہ بہتری، سعودی عرب کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزا میں نرمی اور افرادی قوت کی بیرون ملک کھپت میں گذشتہ سال جنوری دسمبر کی382,000 کی تعداد کی نسبت امسال625,000 تک اضافہ سے ترسیلات زر کی پاکستان آمد میں آنے والے مہینوں میں مزید اضافہ ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…