جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پارلیمنٹ اجلاس سے ایک دنپہلے ایسا کیادلچسپ واقعہ پیش آیا جس نے آرمی ایکٹ پراپوزیشن کے ووٹ دینے کی راہ ہموار کردی؟اہم انکشاف کردیا گیا

datetime 12  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(اے این این ) پارلیمنٹ میں آرمی ترمیمی ایکٹ کے منظور ہونے کے چند روز بعد ہی پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما خرم دستگیر خان نے اشارہ دیا ہے کہ پارٹی کی قیادت پر اس قانون سازی کے لیے دباؤ تھا جبکہ لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ‘ووٹ کو عزت دو’ کے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی۔

نجی ٹی وی کے مطابق لاہور کے الحمراء ہال میں میں افکار تازہ تھنک فیسٹ میں پارلیمنٹ ٹوڈے نامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن)کے رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ‘آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کے لیے اگر کوئی دباؤ تھا تو وہ ہماری قیادت پر تھا ہم جیسے رکن پارلیمان پر نہیں’۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر کہا جارہا ہے کہ آرمی ایکٹ پر اراکین پارلیمان کی کوئی بحث نہیں ہوئی تو یہ سچ نہیں، مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی تھی’۔مسلم لیگ(ن) کے قانون ساز کا کہنا تھا کہ پیش کردہ بل کا مسودہ اپوزیشن کو قانون سازی سے ایک ہفتے قبل دیا گیا تھا تاہم ‘پارلیمنٹ کے اجلاس سے ایک روز قبل ہی کچھ ایسا دلچسپ واقعہ پیش آیا جس نے مجوزہ بل کے لیے حزب اختلاف کے ووٹ دینے کی راہ ہموار کردی’۔سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں اس بارے میں تفصیلات نہیں بتا سکتا’۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ‘اس حقیقت کو ماننے کی ضرورت ہے کہ فوج کا سیاست سے تعلق ہے، ہم اسے مانیں یا نہ مانیں یہ حقیقت رہے گی’۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر آرڈیننس کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو آرڈیننس کا اختیار صرف ہنگامی صورتحال میں استعمال کرنا چاہیے۔

حکومت پارلیمنٹ کو اس وقت اہمیت دے گی جب پچھلے دروازے سے قانون سازی کا اختیار بند ہوجاتا ہے’۔علاوہ ازیں عمران خان کو سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کے حوالے سے قانون سازی سے ایک روز قبل کیا ہوا تھا کے حوالے سے سوال کے جواب میں لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سینئر وفاقی وزیر اپوزیشن کے قانون سازوں کو منانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔انہوں نے دعوی کیا کہ ‘سینئر وفاقی وزیر نے مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی گروپ سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور بل کے لیے ووٹ کا مطالبہ کیا اور وہ اس وقت ہی گئے جب ہم نے انہیں زبان دے دی۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ(ن) کے آرمی ایکٹ قانون سازی کے مرحلے میں موقف کو واضح کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف اور ان کی جماعت اپنے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی ہے اور ہم عوام کو بالاتر سمجھتے ہیں’۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) نے آرمی چیف کی سروس کے توسیع کے حق میں ووٹ دیا کیونکہ ہم اس اہم مسئلے پر سیاست نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ تحریک انصاف کی نا اہل حکومت نے اس معاملے کو خراب کیا تھا، اس قانون سازی کے ذریعے وزیر اعظم کو تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کا اختیار حاصل ہوا ہے’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…