جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

نئی دہلی اور ممبئی کے بعد چنئی میں بھی ’’فری کشمیر ‘‘کے پوسٹرز لگ گئے

datetime 12  جنوری‬‮  2020 |

چنئی (این این آئی) بھارت میں پیش آنے والے ایک کے بعد دوسرے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی جدوجہد مودی کی فسطائی حکومت کے زیرتسلط رہنے والے بھارتی عوام خصوصا اقلیتوں کے لئے ایک علامت بن چکی ہے اوربھارت کے طول و عرض میں جاری مظاہروں کے دوران اب ’’فری کشمیر‘‘ کے پوسٹر کثرت سے دیکھے جاتے ہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ماضی قریب میں ایسے پوسٹر اٹھانے والے لوگوں کے خلاف غداری کے مقدمات درج کئے جانے کے باوجود چنئی میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ایک مظاہرے کے دوران ’فری کشمیر‘کا پوسٹر دیکھا گیا۔اس سے قبل نئی دہلی اور ممبئی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بھی اسی طرح کے پلے کارڈز دیکھے گئے تھے۔چنئی میںیہ پوسٹر نئی دہلی میںجواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ پر تشددکے خلاف احتجاج کرنے والی ایک خاتون نے اٹھایا تھا۔دہلی کے بعد 6 جنوری کو ممبئی کے ایک مظاہرے کے دوران بھی ایک لڑکی کو ’فری کشمیر‘ کا پوسٹر تھامے ہوئے دیکھا گیا تھا۔5 جنوری کی شام کولاٹھیوں اور ہتھوڑوں کے ساتھ نقاب پوش مردوں اور خواتین کا ایک ہجوم نئی دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہوگیااور یونیورسٹی کے اندر موجود طلباء اور اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنایااور املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس واقعے میں اساتذہ اور طلبہ بری طرح زخمی ہوئے تھے جبکہ واقعے کے بعد 30 سے زائد طلباء کوٹروما سنٹر لے جانا پڑاتھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…