بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پنجاب پولیس نے اپنی روش نہ بدلی‘ سارے ماڈل سسٹم ٹھاہ انصاف نہ ملنے پر 7 بچوں کی ماں نےخود کو آگ لگالی

datetime 23  جنوری‬‮  2020 |

پتوکی (این این آئی )پنجاب پولیس نے اپنی روش نہ بدلی‘ماڈل پولیس سسٹم دھرے کے دھرے رہ گئے-پتوکی میں انصاف نہ ملنے پر سات بچوں کی ماں نے سٹی پولیس چوکی پتوکی کے اندر ہی خود کو آگ لگالی، پولیس چوکی میں آگ بجانے والا کوئی آلہ موجود نہ ہونے سے خاتون کا پچاس فیصد جسم جل گیا۔

ڈی پی او قصور زاہد مروت نے ایڈیشنل ایس پی قصور میاں راشد ہدایت اور ڈی ایس پی سرکل پتوکی رضوان منظور کو معاملے کی انکوائری کرنے کی ہدایت کردی ،تفصیلات کے مطابق پتوکی کے نواحی گاوں ویرم چک نمبر 4 کی رہائشی 40 سالہ7 بچوں کی ماں شمیم بی بی کی گزشتہ روز محلہ میں بجلی چوری کے معاملے پر رشتہ داروں اور محلہ داروں سے لڑائی ہوئی تھی، خاتون نے مقدمہ اندراج کیلئے تھانہ میں درخواست گزاری جس پر کاروائی کرتے ہوئے چوکی انچارج پتوکی محمود الحسن نے ملزم کو پکڑ لیا اور رشوت لیکر ملزم کو چھوڑ دیا تھا اور جب خاتون سٹی پولیس چوکی پہنچی تو چوکی انچارج نے خاتون پر بیہودہ الزامات لگائے جس پر خاتون نے پولیس کے غلط رویے سے دل برداشتہ ہوکر انصاف نہ ملنے پر سات بچوں کی ماں نے سٹی پولیس چوکی پتوکی کے اندر ہی پڑی ہوئی پیٹرول کی بوتل کو خود پر چھڑک کر آگ لگالی، پولیس چوکی میں آگ بجانے والا کوئی آلہ موجود نہ ہونے سے خاتون کا پچاس فیصد جسم جل گیا، مقامی دوکانداروں کی مدد سے خاتون کو تحصیل ہیڈکواٹرہسپتال پتوکی لے جایا گیا جہاں پر موجود ڈاکٹرز نے تشویش ناک صورت حال کے پیش نظر خاتون کو فوری طور پر لاہور ریفر کردیا۔

تھانہ سٹی پتوکی پولیس نے خاتون کے خلاف اقدام خود کشی کا مقدمہ درج کرلیا ،ڈی پی او قصور زاہد مروت نے ایڈیشنل ایس پی قصور میاں راشد ہدایت اور ڈی ایس پی سرکل پتوکی رضوان منظور کو معاملے کی انکوائری کرنے کی ہدایت کردی، دوسری جانب بتایا جاتا ہے کہ تھانہ سٹی پولیس نے شمیم بی بی کے ساتھ جھگڑا کرنے والے محلہ داروں پر مقدمہ درج اور شمیم بی بی پر خودکشی کرنے کی کوشش کرنے پر مقدمہ درج کرنے کی رپورٹ بنا کر DPO قصور کو ارسال کردی اہل گاؤں کے لوگوں نے پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس وزیر اعلی پنجاب سے فوری طور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے –



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…