جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

نیب ترمیمی آر ڈیننس مشکل فیصلہ تھا،نیب کے چیئرمین کو کیا سمجھایا گیا؟ اپوزیشن نے آرڈیننس پڑھے بغیر کیا کام کیا؟ عمران خان کھل کر بول پڑے

datetime 2  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ترمیمی آرڈیننس کو مشکل فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت میں سیاسی مشاورت اور اتفاق رائے سے چلنا ہوتا ہے، اپوزیشن نے آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا،ٹیکس کیسز فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے دائرے کار میں آتا ہے جس میں نیب کا عمل دخل نہیں بنتا،2008 کے بعد ملک پر 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھا اور ملکی آمدن کا آدھا حصہ قرضوں پر سود کی مد میں چلا جاتا ہے،

معاشی استحکام کے لیے گورننس کے نظام کوبہترکرنا ہوگا۔ جمعرات کو سول سروس سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ نیب کے چیئرمین کو سمجھایا گیا کہ نیب کا مینڈیٹ کرپشن کیسز کو پکڑنا ہوتا ہے اور عالمی سطح پر کریشن کی تعریف صرف اور صرف پبلک آفس کا ناجائز اور ذاتی مفاد کے لیے استعمال ہے۔عمران خان نے کہا کہ نیب کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیوروکریسی کا کردار محدود ہوگیا تھا تاہم نیب میں ترمیم کے ذریعے بیوروکریسی کو ضابطے کی غلطیوں پرنیب کے شکنجے سے بچانا مقصود تھا۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ ٹیکس کیسز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دائرے کار میں آتا ہے جس میں نیب کا عمل دخل نہیں بنتا۔تاجر برادری سے متعلق عمران خان نے کہا کہ تاجر برادری کسی بھی صورت پبلک آفس کو ہولڈ نہیں کرتی، جب وہ کسی پبلک آفس کے ساتھ مل کر اس سے فائدہ اٹھائے تب نیب انہیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ملکی قرضوں سے متعلق بتایا کہ ملک میں اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ 2008 کے بعد ملک پر 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھا اور ملکی آمدن کا آدھا حصہ قرضوں پر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں پیسہ اس وقت آئیگا جب صنعتیں چلیں گی اور معاشی استحکام کے لیے گورننس کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا۔وزیر اعظم نے کہاکہ ملک میں پیسہ اس وقت آئے گا جب صنعتیں چلیں گی، ٹیکس کیسز ایف بی آر کے ہیں، کاروباری معاملات میں نیب کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے نیب ترمیمی آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…