جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

کس اسلامی ملک کے بادشاہ کو پاکستان میں تلور کے شکار کی اجازت مل گئی ، بادشاہ کیساتھ کون کون آئے گا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 24  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن)وفاقی حکومت نے بحرین کے بادشاہ شیخ حماد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ اور ان کے خاندان کے دیگر 5 افراد کو ین الاقوامی طور پر تحفظ پانے والے نایاب پرندے تلور کے شکار کے خصوصی اجازت نامے جاری کردیے۔  میڈیا رپورٹ کے مطابق تلور کے شکار کے اجازت نامے 20-2019 کے شکار کے سیزن کے دوران جاری کیے گئے ہیں۔بحرین کے بادشاہ کے علاوہ شکار کرنے

والے افراد میں بادشاہ کے چچا، ملک کے وزیر داخلہ، مشیر برائے دفاع، کزنز اور شاہی نظام کے دیگر افراد شامل ہیں۔وسطی ایشیائی خطے میں رہنے والے تلور ہر سال سردیوں میں اپنے آبائی علاقوں میں سخت موسم سے بچنے کے لیے پاکستان آجاتے ہیں اور موسم سرما کے بعد وہ اپنے خطے میں واپس چلے جاتے ہیں۔عرب شکاریوں کی جانب سے تلور کے شکار کے باعث دنیا میں تلور کی تعداد میں کمی آئی ہے جسے نہ صرف عالمی تحفظ کے مختلف کنونشنز کے تحت تحفظ حاصل ہے بلکہ مقامی ائلڈ لائف پروٹیکشن قوانین کے تحت اس کے شکار پر پابندی عائد ہے۔‎وزارت خارجہ سے جاری ضابطہ اخلاق کے تحت کے مطابق یکم نومبر، 2019 سے لے کر 31 جنوری، 2020 تک جاری رہنے 3 ماہ کے شکار کے سیزن کے دوران ایک شکاری 10 دن کے اندر 100 تلور کا شکار کرسکتا ہے۔وزارت خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد عدیل پرویز کی جانب سے جاری کیے گئے اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بحرین کے سفارت خانے میں پہنچائے گئے خصوصی پرمٹس کے مطابق، شکاریوں کے نام اور شکار کے لیے مختص علاقوں میں بحرین کے بادشاہ شیخ حماد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ کو شکار کے لیے ضلع جامشورو کا علاقہ دیا گیا (جس میں تھانو بولا خان، کوٹری، ،مانجھند اور سیہون تحصیلیں شامل ہیں)۔بحرین  بادشاہ کے چچا شیخ ابراہیم بن حماد بن عبداللہ الخلیفہ کو ضلع سجاول ک تحصیل شاہ بندر میں تلور کے شکار کی اجازت دی گئی ہے۔بادشاہ کے کزن جو بحرین کے وزیر داخلہ بھی ہیں لیفٹننٹ جنرل شیخ راشد بن عبداللہ الخلیفہ صوبہ سندھ کے ضلع نوشہرہ فیروز اور بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں تلور کا شکار کریں گے۔بحرین کے بادشاہ کے مشیر برائے دفاع شیخ عبداللہ بن سلمان الخلیفہ ضلع سجاول کی تحصیل جاتی میں تلور کا شکار کرریں گے۔بادشاہ کے کزن شیخ خالد بن راشد بن عبداللہ الخلیفہ کو ٹنڈو محمد خان جبکہ ایک اور کزن شیخ احمد بن علی الخلیفہ حیدرآباد اور ملیر ( ملیر کنٹونمنٹ اور دھابیجی کے علاقوں کے علاوہ ) کے اضلاع میں شکار کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…