جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

جس ہسپتال میں اونچا سانس لینے کی اجازت نہیں وہاں وکلاء کو احتجاج کی اجازت دیدی؟لاہور ہائیکورٹ نےپی آئی سی حملہ کیس میں بڑا حکم جاری کردیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی )ہنگامہ آرائی میں بے قصور وکلا کیخلاف کارروائی سے روک دیا ہے۔بدھ کے روز جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے پی آئی سی ہسپتال حملہ کیس میں گرفتار وکلا کی رہائی کے لیے بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت سی سی پی او لاہور، ہوم سیکرٹری پنجاب،آئی جی پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جمال احمد سکھیرا عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار احسن بھون ایڈووکیٹ نے کہا کہ پی آئی سی معاملے میں گرفتار وکلا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور چہروں پر نقاب چڑھا کر پیش کیا گیا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے آئی جی پنجاب سے کہا کہ چہروں پر نقاب چڑھا کر کیوں پیش کیا گیا، کیا کوئی شناخت پریڈ کروانی ہے؟، اگر ایسا کریں گے تو پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب وکلا  ہیں تو آپ ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں، یہ عدالت میں ہمارے سامنے کھڑے وکلاوہاں جا کر معافی مانگ کر آئے مگر ان کیساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں کیا گیا، بار سے پی آئی سی کا ساڑھے 6 میل کا فاصلہ ہے اس وقت وکلا کو کیوں نہیں روکا؟۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے چائنہ چوک میں روکا تھا مگر انہوں نے وہاں کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا تھا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ نے پی آئی سی میں جو کام کیا وہی کام راستے میں کر لیتے، وہ اسپتال جہاں پر اونچا سانس نہیں لے سکتے آپ نے وہاں وکلا کو احتجاج کی اجازت دیدی؟۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ جو لوگ پی آئی سی حملے میں ملوث ہیں انکے ساتھ ہم نہیں ہیں، جو اس میں ملوث ہیں انکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں، کالا کوٹ کوئی گالی نہیں ہے، اس شخص کے بارے میں بات کریں جس نے اس کی توہین کی ہے، جو وکلا اس واقعے میں ملوث نہیں انکو تنگ نہ کریں، یہ بڑا واضح پیغام ہے آپ کو، ہم بھی پی آئی سی کے سربراہ اور ڈاکٹرز سے بات کر لیتے ہیں، وکلا کے نمائندے بھی چیمبر میں آجائیں۔عدالت نے ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو بھی طلب کرتے ہوئے پی آئی سی ہنگامہ آرائی میں بے قصور وکلا کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…