جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستا ن کی بنیاد کلمے کی بنیاد پررکھی گئی، پاکستان کو کسی صورت سیکولر اسٹیٹ نہیں بننے دیں گے،علماء کرام کا دو ٹوک اعلان

datetime 16  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)متحدہ علماء محاذ پاکستان کے بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری کی دعوت پر علامہ شبیر احمد عثمانی کے یوم وصال کے موقع پر مختلف مکاتب فکر کے علماء مشائخ نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی خدمات پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ عثمانی نے نا صرف ہندوستان کے طول عرض میں بڑے بڑے مدارس کا دورہ کرکے تحریک پاکستان کو منظم کرنے کی جدوجہد کی

بلکہ قوم کو ایک نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ دے کر اسلامی پاکستان کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے اپنی تفسیر عثمانی کے حواشی میں اتحاد بین المسلمین کی راہ بھی ہموار کی اسی لئے وہ تمام مسلم مکاتب فکر کے علماء و عوام میں یکساں مقبول تھے اور بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔علامہ عثمانی کے خلوص کا یہ عالم تھا کہ پاکستان بننے کے بعد جب لوگ عہدوں کیلئے بھاگ دوڑ کررہے تھے انہوں نے قائد اعظم کے اصرار کے باوجود کوئی عہدہ لینے سے انکار کردیاتھااور قیام پاکستان کے بعد نظام اسلام کے نفاذ کے لئے قرار داد مقاصد بنانے کی راہ ہموار کی جس میں واضح طور پر یہ تحریر ہے کہ ”پاکستان میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایاجائے گا“ حکمراں علامہ عثمانی کے افکار کی روشنی میں پالیسی مرتب کریں۔ علامہ عثمانی کے نام سے منسوب چاروں صوبوں میں کالجز و یونیورسٹیز قائم کریں۔ علامہ عثمانی کی مرتب کردہ قرارداد مقاصد سے انحراف کرنے والے اسلام و ملک کے باغی ہیں۔ علماء قائداعظم،علامہ اقبال اور علامہ عثمانی کے پاکستان کو کسی صورت سیکولر اسٹیٹ نہیں بننے دیں گے۔علامہ عثمانی قومی ہیرو اور اتحاد بین المسلین کے عظیم داعی تھے۔ علماء نے کہا کہ حکومت کی طرف سے قادیانیوں کو سہولتیں دینا ان کے عبادت خانوں کی تعمیر اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے کی اجازت و سرپرستی کی ہم نا صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ حکمرانوں کو خبردار کرتے ہیں کہ قائد اعظم اور علامہ عثمانی کے پاکستان کے خلاف حکومتی سازشوں کو بے نقاب کرکے دم لیں گے۔

ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ قادیانیوں کی تبلیغ،عبادت گاہوں کی تعمیر پر فوری پابندی عائد کی جائے۔پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کیلئے علامہ عثمانی جیسی صالح قیادت کی ضرورت ہے۔ سیمینار سے پروفیسر حافظ محمد سلفی،مولانا عبدالکریم عابد، علامہ عبدالخالق فریدی، مولانا محمدا مین انصاری،مفتی محمد بخاری،مولانا سلیم اللہ ترکی،علامہ روشن دین الرشیدی،علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی، علامہ شاہدین اشرفی، علامہ علی کرارنقوی،علامہ قرۃ العین عابدی،

علامہ سید سجاد شبیر رضوی،مفتی وجیہہ الدین، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی،مفتی ہارون مطیع اللہ، مولانا عبدالستار توحیدی،مفتی ساجد یار خان،مفتی اکبرشاہ ہاشمی،پروفیسر حافظ عبدالماجد انصاری،مولانا گل نواب شاہ،مفتی اسدالحق چترالی، محمد شکیل قاسمی، سید انور شاہ کشمیری، مولانا وقار احمد بھٹی،مولانا امجد ہزاروی سلفی،مولانا عیسیٰ خان محمدی،مولانا طفیل عاطف،مولانا عبدالحئی عابد،مولانا اویس مدنی،مفتی عبداللہ بخاری، مولانا حافظ احمد بخاری، مفتی محمد اسلام،مولانا اسداللہ رشید،مفتی شبیر احمد،مفتی منظور احمد، حافظ گل نواز،مولانا علی المرتضیٰ،مولانا یونس صدیقی،مولانا مفتی انعام الحق حجازی ودیگر نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی دینی، سیاسی خدمات و کردار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…