جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

ایف بی آر کا شناختی کارڈ موقف اٹل ہے، تاجروں تنظیموں نے شناختی کارڈ کی شرط قبول کر لی،چیئرمین ایف بی آر کا دعویٰ

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ایف بی آر کا شناختی کارڈ موقف اٹل ہے کچھ تاجر تنظیمیں بھی اتفاق رکھتی ہیں چئیرمین ایف بی آر کا سینیٹ قائمہ کمیٹی میں انکشاف، پچاس ہزار کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا ضروری ہوگا،تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا

اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے چئیرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ تاجروں تنظیموں نے شناختی کارڈ کی شرط قبول کر لی ہے،اس موقع پر شبر زیدی نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم تیارکر لی ہے جس کے مطابق چھوٹے تاجروں پر دس کروڑ روپے ٹرن اوور کر 0.5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اسکیم کو جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ہے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان طے پانیوالے معاہدے کے تحت 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط برقرار رہے گی، 30 جنوری کے بعد شناختی کارڈ کی شرط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہم نے تاجروں کے مطالبات تسلیم کیے ہیں چھوٹے تاجروں کی رجسٹریشن، تنازعات اور بڑے ریٹیلیرز کی رجسٹریشن کے لیے مارکیٹ کمیٹیاں قائم کی جارہی ہیں۔اجلاس میں کمیٹی کو ٹیکس کولیکشن کے حوالے سے بنائی گئی ایپلیکشن کے فیچرز پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس ایپلیکشن سے عوام کو برا راست فائدہ پہنچے گا اس جدید ایپ کو اس وقت تک تین لاکھ سے زائد لوگوں اس ایپلیکشن پر اپنی رجسٹریشن کروا چکے ہیں،دوسری جانب سینیٹر مشاہداللہ خان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں شناختی کارڈ کا غلط استعمال ہورہا ہے شناختی کارڈ مرد کا ہو یا خاتون کا کسی سینہیں مانگنا چاہیئے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں شناختی کارڈ دکھانا نا مناسب سمجھا جاتا ہے

شناختی کارڈ کی شرط پانچ لاکھ روپے کی خریداری پر عائد کی جائیانہوں نے مزید کہ پوری دنیا میں کہیں خریداری کی دوران شناختی کارڈ دکھانے کی شرط نہیں تو پاکستان میں کیوں ایسا نظام متعارف کروایا جا رہ ہے جو عوام کے لئے مشکلات برھائے گا،شناختی کارڈ کی شرط سے عام صارفین کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس حوالے سے چھوٹے دوکانداروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ضروری ہے وگرنہ چھوٹے دوکان داروں کا کاروبار ختم ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ گر یہ اقدام انتہائی ناگزیر ہے تو پچاس ہزار کی شرط کو ختم کر کے پانچ لاکھ تک بڑھا دینا چاہئے اسْ موقع پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک نے اس اہم نقطہ کی تائید کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…