جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایف بی آر کا شناختی کارڈ موقف اٹل ہے، تاجروں تنظیموں نے شناختی کارڈ کی شرط قبول کر لی،چیئرمین ایف بی آر کا دعویٰ

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ایف بی آر کا شناختی کارڈ موقف اٹل ہے کچھ تاجر تنظیمیں بھی اتفاق رکھتی ہیں چئیرمین ایف بی آر کا سینیٹ قائمہ کمیٹی میں انکشاف، پچاس ہزار کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا ضروری ہوگا،تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا

اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے چئیرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ تاجروں تنظیموں نے شناختی کارڈ کی شرط قبول کر لی ہے،اس موقع پر شبر زیدی نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم تیارکر لی ہے جس کے مطابق چھوٹے تاجروں پر دس کروڑ روپے ٹرن اوور کر 0.5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اسکیم کو جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ہے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان طے پانیوالے معاہدے کے تحت 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط برقرار رہے گی، 30 جنوری کے بعد شناختی کارڈ کی شرط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہم نے تاجروں کے مطالبات تسلیم کیے ہیں چھوٹے تاجروں کی رجسٹریشن، تنازعات اور بڑے ریٹیلیرز کی رجسٹریشن کے لیے مارکیٹ کمیٹیاں قائم کی جارہی ہیں۔اجلاس میں کمیٹی کو ٹیکس کولیکشن کے حوالے سے بنائی گئی ایپلیکشن کے فیچرز پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس ایپلیکشن سے عوام کو برا راست فائدہ پہنچے گا اس جدید ایپ کو اس وقت تک تین لاکھ سے زائد لوگوں اس ایپلیکشن پر اپنی رجسٹریشن کروا چکے ہیں،دوسری جانب سینیٹر مشاہداللہ خان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں شناختی کارڈ کا غلط استعمال ہورہا ہے شناختی کارڈ مرد کا ہو یا خاتون کا کسی سینہیں مانگنا چاہیئے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں شناختی کارڈ دکھانا نا مناسب سمجھا جاتا ہے

شناختی کارڈ کی شرط پانچ لاکھ روپے کی خریداری پر عائد کی جائیانہوں نے مزید کہ پوری دنیا میں کہیں خریداری کی دوران شناختی کارڈ دکھانے کی شرط نہیں تو پاکستان میں کیوں ایسا نظام متعارف کروایا جا رہ ہے جو عوام کے لئے مشکلات برھائے گا،شناختی کارڈ کی شرط سے عام صارفین کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس حوالے سے چھوٹے دوکانداروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ضروری ہے وگرنہ چھوٹے دوکان داروں کا کاروبار ختم ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ گر یہ اقدام انتہائی ناگزیر ہے تو پچاس ہزار کی شرط کو ختم کر کے پانچ لاکھ تک بڑھا دینا چاہئے اسْ موقع پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق حامد نائیک نے اس اہم نقطہ کی تائید کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…