بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مقام مکہ میں جمرات کے قریب ،پہلی دفعہ 1441سال پہلے کتنے افرادآپﷺکے دست مبارک پر بیعت کی؟ ایمان افروز تحریر ‎

datetime 1  دسمبر‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی)آج سے 1441 سال پیشتر 625ء کو اسلام نے بیعت کا تصور پیش کیا۔ یہ تصوراس وقت سامنے آیا جب پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر مدینہ منورہ کے دو قبائل اوس اور حزرج کے 12 افراد نے بیعت کی۔ اسے بیعت عقبہ اولیٰ بھی کہا جاتا ہے۔

اسی مقام پر ایک سال کے بعد دوسری بیعت منعقد کی گئی جسے بیعت عقبہ ثانیہ کا نام دیا گیا۔ یہ بیعت نبی اکرم کی نصرت کے لیے گئی جس میں دو خواتین اور 75 مردوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔بیعت کامقام مکہ معظمہ میں جمرات کے قریب ہے۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے اسلامی تاریخ میں اس یادگار مقام کی تجدید کی۔عرب ٹی وی کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد سقیفہ بنی سعدہ کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔ اس کے بعد 14 سوسال کے دوران بیعت کا سلسلہ چلتا رہا۔سرزمین حجاز میں تیسری سعودی مملکت کی پہلی بعیت 123 سال پیشتر شاہ عبدالعزیز کے الریاض میں داخل ہونے کے بعد ہوئی۔ یہ بیعت پانچ شوال 1318ھ کو منعقد کی گئی۔ تیسری سعودی مملکت میں یہ پہلی بیعت تھی۔ اس کے بعد شاہ عبدالعزیز کے چھ بیٹوں کی ترتیب وار مملکت کی فرمانروائی کی بیعت کی جاتی رہی۔سعودی مملکت میں اب تک کی آخری بیعت موجودہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہے۔ یہ بیعت 1436ھ تین ربیع الاول شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد ہوئی۔شاہ سلمان کی قیادت میں مملکت اس وقت اقتصادی، ثقافتی اور تمدنی ترقی کے ایک نئی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ترقی کے اس سفر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جو بیعت کی تابندہ روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…