بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کے شدید احتجاج کے بعد عراقی وزیراعظم کا مستعفی ہونے کا اعلان

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

بغداد( آن لائن )عراق میں گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج اور 400 شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پارلیمان میں اپنا استعفی پیش کریں گے۔عراقی وزیراعظم نے ملک میں جاری پر تشدد مظاہرے ختم کرنے اور قومی اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔عراقی وزیراعظم

عادل عبدالمہدی کے استعفے کے اعلان کے بعد دارالحکومت بغداد میں مظاہرین کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر جشن منایا۔ قبل ازیں عراق میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے علما نے مظاہرین کے خلاف فورسز کی طرف سے طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے اور نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریر اسکوائر میں جمع ہونے والے لوگ حکومت کے خلاف نعرے بازے کررہے ہیں۔ وہ وزیراعظم کے استعفے کے اعلان پر بہت خوش دکھائی دیتے ہیں۔ہلاکتوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئیعراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے بھی اپنے استعفے میں سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی السیستانی کی طرف سے حکومتی اصلاحات کے مطالبے کا حوالہ دیا ہے۔ السیستانی نے اپنے متعدد بیانات میں حکومت سے کہا تھا کہ وہ مظاہرین کے تمام آئینی مطالبات پورے کرنے پر زور دیا تھا۔ کل جمعہ کے روز مزید 15 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جب کہ ڈیڑھ ماہ سے جاری احتجاج میں اب تک کم سے کم چار سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق عراق میں ہلاکتوں کی تعداد 408 تک جا پہنچی ہے۔مظاہرین حکومت سے ملازمتوں کی فراہمی، کرپشن کے خاتمے اور بہتر شہری سہولیات دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وزیر اعظم عبدالمہدی کے دفتر سے جاری بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ استعفی کب دیں گے؟ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمان میں اپنا استعفی پیش کریں گے تاکہ ممبران نئی حکومت کی تشکیل کرسکیں۔وزیراعظم کا یہ فیصلہ آیت اللہ علی سیستانی کی جانب سے نئی حکومت کے قیام کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس مطالبے کے جواب میں وزیراعظم عبدالمہدی کی دستخط شدہ تحریر میں لکھا گیا ہے کہ وہ پارلیمان سے کہیں گے کہ وہ ان کا استعفی قبول کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…