جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

  آرمی چیف کی تقرری، مدت اور توسیع کے بارے میں قانون بنانا ہمارے لیے اعزاز ہو گا،حکومتی  قانونی ٹیم نے بڑا اعلان کردیا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) حکومت کی قانونی ٹیم اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہاہے  کہ    عدالت نے ہمیں حکم دیا ہے، آرمی چیف کی تقرری، مدت اور توسیع کے بارے میں قانون بنانا ہمارے لیے اعزاز ہو گا، آرمی چیف کی مدت ملازمت 29 کی رات بارہ بجے سے شروع ہو گی اور ایسا نہیں ہو گا یہ مدت چھ ماہ میں ختم ہو جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے   اسلام آباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے  کیا۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ تاریخی ہے اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے آئین اور قانون کی سپر میسی ہے۔آرمی ایکٹ تقسیم برصغیر سے قبل کا ہے پاکستان کے آہین 1973 کے بعد مختلف ادوار میں آرمی چیفس کی تقرری اور توسیع ملتی رہی ہم نے بھی اْسی قانون کو فالو کیا ہم نے مدت ملازمت میں توسیع کی سمری میں کوئی نئی چیز نہیں شامل کی تھی عدلیہ میں ایک درخواست دائر ہو گئی جس پر عدلیہ نے ایکشن لیا جنرل کیانی کو جب مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تھی اْس وقت بھی ایک درخواست ان کی تقرری کے خلاف دائر کی گئی تھی اس وقت درخواست پر عملدرآمد ہو جاتا تو اج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے جن لوگوں نے اٹھارویں ترمیم لائی انھوں نے اس پر قانون سازی کیوں نہ کی ہم سے پچھلی دو حکومتوں نے بھی آرمی ایکٹ پر کام نہیں کیا آرمی ایکٹ آج تک چیلنج نہیں ہوا اب ہوا تو اس پر قانون سازی کریں گے سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 243 پر قانون سازی کی جائے عدلیہ نے احسن طریقے سے یہ کام عوامی نمائندوں یعنی پارلیمنٹ کو دے دیا جو اچھا اقدام ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ آئین کا ارٹیکل 243 آرمی چیف کی تقرری اور 245 ان کے رینک سے متعلقہ ہے عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ آئین کی شق 255 میں آرمی چیف کا ذکر نہیں ہمارا آئین اس حوالے سے خاموش تھا عدلیہ نے چھ ماہ کا وقت دیا ہے ہم انشاء اللہ اسے ایک ہفتے اور ایک ماہ میں بھی قانون سازی کر سکتے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ میڈیا جعلی خبریں چلاتا ہے یہ خبریں چلائی گئی کہ وزیراعظم نے مجھ سمیت اٹارنی جنرل اور شہزاد اکبر کی کھنچائی کی ہے ایسا بالکل بھی نہیں ہوا میں نے استعفیٰ رضاکارانہ اپنی مرضی سے دیا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے کوئی ایسی خبر نہ چلائی جائے جس سے ملک کی عزت پر دھبہ آئے۔فروغ نسیم نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے دیکھا کہ عدلیہ میں چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کے حوالے سے تمام معاملات پر بحث آہین اور قانون کے مطابق درست سمت میں جا رہی ہے

اس پر انھوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ ماضی میں بھی تقرریوں پر ان ایڈوانسڈ نوٹیفکیشن ہوتے تھے اور اب کی بار بھی ایسا ہوا ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر نسیم فروغ نے کہا کہ کابینہ اور پارلیمنٹ طے کرے گی کہ آرمی چیف کی مدت کتنی ہو گی؟ اس پر ابہام نہیں ہونا چاہئے۔ اس موقع پر سابق وفاقی وزیر بیرسٹر فروغ نسیم نے ” آن لائن ” کے سوال پر بتایا کہ عدلیہ کا فیصلہ نظریہ ضرورت نہیں بلکہ عدلیہ کا اختیار تھا کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دے۔انھوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ عدلیہ کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کون سے کیس کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…