بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی : میوزیم سے اربوں روپے کے زیورات اور نوادرات چوری

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ڈریسڈن(این این آئی) یورپ میں نوادرات، قیمتی زیورات اور فن پاروں کے سب سے بڑے مرکز سے چور 100 کے قریب قیمتی زیورات اور نوادرات لے اڑے۔ میوزیم انتظامیہ نے اس خزانے کو قیمت سے ماورا قرار دیتے ہوئے صرف اتنا بتایا کہ ان کی مالیت اربوں روپے میں ہوسکتی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں واقع تاریخی گرین والٹ میں کئی صدیوں پرانے زیورات، نوادرات، فن پاروں کی بنائے ہوئے منی ایچر مجسمے اور دیگر نوادرات رکھے ہیں جسے یورپ کا سب سے بڑا خزانہ بھی کہا جاتا ہے۔مقامی سیاستداں رولینڈ ووئلر نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کئی افراد نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے میوزیم میں نقب لگائی اور ایسے خزانے کو چرالیا جن کی قیمت بیان سے باہر ہے کیونکہ وہ سب انمول ہیں۔یہ میوزیم بہت محفوظ سمجھا جاتا رہا ہے لیکن پہلے صبح 5 بجے اس کی بجلی بند کی گئی اور اس کے بعد خزانہ لوٹا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مقامی اخبار کے مطابق نوادرات کی مالیت کسی طور بھی ایک ارب یورو سے کم نہیں جو کھربوں روپے کے برابر ہے۔ اب تک پولیس کو سی سی ٹی وی ویڈیو میں صرف دو چور ہی نظر آسکے ہیں۔اس ڈکیتی کو جرمنی کی تاریخ کی سب سے بڑی واردات بھی کہا جارہا ہے۔ شیشے کی صرف ایک الماری کو توڑ کو زیورات کے تین جوڑے چرائے گئے جو شاہ آگسٹس کے عہد سے تعلق رکھتے تھے۔میوزیم کی خاتون سربراہ نے چوروں سے درخواست کی ہے کہ ہے کہ تاریخی نوعیت کے یہ نوادرات کسی بھی طرح مارکیٹ میں فروخت نہیں کیے جاتے لیکن انہیں بیچنے کے لیے وہ انہیں توڑنے، پگھلانے یا تبدیل کرنے سے گریز کریں۔واردات کے بعد گرین والٹ کو بند کردیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…