ہفتہ‬‮ ، 13 جون‬‮ 2026 

کپتان نے گذشتہ ادوار کے تمام ریکارڈز توڑ دئیے،بیرونی قرضے کی حجم میں گذشتہ13مہینوں میں خطرناک اضافہ،اسفندیار ولی خان نے خبردارکردیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

چارسدہ(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ ملک کے مجموعی قرضوں سے متعلق حالیہ اعدادوشمار انتہائی خطرناک ہیں۔جتنا قرضہ پاکستان کے 71سالہ تاریخ میں لیا گیا، کپتان کی تیرہ مہینوں میں اس کا 35فیصد قرضہ لیا گیا ہے لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ کشکول توڑدیں گے،حقیقت تو یہ ہے کہ کپتان نے گذشتہ ادوار کے تمام ریکارڈز توڑدیے ہیں،

ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک پر مجموعی قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جارہا ہے اور خدانخواستہ پانچ سال تک یہی حالت رہی تو ملک دیوالیہ ہوجائیگا۔ولی باغ چارسدہ سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے کہا ہے کہ بیرونی قرضوں کے حجم میں گذشتہ تیرہ مہینوں کے دوران حالیہ اضافہ نہ صرف تشویشناک بلکہ ملکی بقا اور سالمیت کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔سٹیٹ بینک کے حالیہ اعدادوشمار کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں چلنے والے خبریں ظاہرکررہی ہے کہ کپتان معاشی طور پر مکمل ناکام ہوچکے ہیں، بہتر یہی ہوگا کہ وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرے۔اسفندیارولی خان کا کہنا تھا کہ کشکول توڑنے والوں نے بیرونی امداد کیلئے چادر پھیلادی ہے،صرف 13مہینوں میں 71سالوں میں لیے گئے قرضوں کا 35فیصد قرضہ صرف کپتان اور اسکی ٹیم لے چکی ہے۔ رواں مالی سال قرضوں کا حجم 12سو ارب سے تجاوز کرگیا ہے پھر بھی جھوٹے وعدوں اور تسلیوں پر عوام کو ٹرخایا جارہا ہے۔اس سے اور خطرناک بات اور کیا ہوگی کہ رواں مالی سال کے پہلے تین مہینوں میں 1266ارب روپے قرضہ لیا گیا ہے۔ مافیا کا الزام لگانے والا کپتان خود جواب دے کہ اتنا قرضہ اب کن کی جیبوں میں جارہا ہے۔ اے این پی سربراہ نے کہا کہ پی پی و ن لیگ کے دور میں مجموعی قرضوں میں تقریباً23ہزارارب جبکہ نام نہاد صادق و امین کی ٹیم کی دوراقتدایعنی صرف 13مہینوں میں 10ہزار ارب کا اضافہ ہوچکا ہے۔جھوٹ بول کر اقتدار میں لایا جاننیوالا شخص صرف الزام تراشی ہی کرسکتا ہے،

اپنی جھوٹ اور نااہلی کو چھپانے کیلئے کپتان آج بھی مخالفین پر صرف الزامات ہی لگارہا ہے لیکن ثابت کچھ نہ کرسکا۔اسفندیارولی خان نے کہا کہ ہم آج بھی کہتے ہیں کہ مجھ سمیت جس جس پر کرپشن کا الزام لگایا گیا تھا،ایک پائی کرپشن ثابت کرے تو سزا کی بجائے سرعام پھانسی دی جائے۔ کرپشن کا الزام صرف اپوزیشن پر کیوں؟ احتساب کے نام پر بنائے گئے ادارے حکومتی اراکین کے خلاف کارروائی سے کیوں کترارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…