منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی سرمایہ کاری کے فروغ کے بغیر مقامی کاروباراور تجارت ترقی نہیں کر سکتی،خوف و ہراس کی فضاء ختم کی جائے ،صدر ایران پاک فیڈریشن

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی )ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستانی سرمایہ کاری کے فروغ کے بغیر مقامی کاروباراور تجارت ترقی نہیں کر سکتی اس لئے سب سے پہلے خوف و ہراس کے سائے دور کئے جائیں ،پاکستان میں ایسا سرمایہ کاربھی ہیں جو جھنجٹ سے بچنے کیلئے متوازن شرائط کے ساتھ دوسرے کوکاروبار کیلئے رقم فراہم کرتے ہیں لیکن اداروں کی مہم جوئی کی

وجہ سے ان لوگوںنے سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے جس کے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،صرف کرپشن پر قابو پانا ہی سب کچھ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو ریلیف فراہم کر کے اس کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بھی ضروری ہے جس میں موجودہ حکومت بظاہر ناکام نظر آتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے وفدسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر بیروزگاری اس طرح پھیلتی رہی ، کارخانے بند ہوتے رہے اور سرمایہ دار یونہی ہجرت کرتے رہے تو پھر معاشی حالات کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ انہوںنے کہا کہا کہ مقامی کاروبار کی ترقی میں مقامی سرمایہ کاروں کا کلیدی کردار ہے لیکن یہ طبقہ اس وقت شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہو کر سرمائے کو منجمد کر کے بیٹھ گیا ہے جس سے ہمارے مقامی کاروبار میں مندی کا رجحان ہے ۔ہمیں اپنے سرمایہ کاروںکا اعتماد بحال کرنے کے لئے بھی اقدامات کرنا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو وہ ریلیف فراہم کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے جس کی عوام کوامید دلائی گئی تھی ۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے کمی کر کے کارخانوں، فیکٹریوں اور چھوٹے کاروباری حضرات کوبھی ریلیف دیا جائے۔ چھوٹے کاشتکاروں کو سہولیات فراہم کر کے سبزیاں اگانے کی ترغیب دی جائے تاکہ ہم اشیائے ضروریہ کی پیداوار میں خود کفیل ہو کر عوام کو سستے داموں فراہم کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…