منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سبزیوں کی قیمت بدستور شہریوں کی پہنچ سے باہر ، شہریوں کی چیخیں نکل گئیں

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) کراچی میں سبزیوں کی قیمت بدستور شہریوں کی پہنچ سے باہر ہے جب کہ ٹماٹر280روپے کلو، پیاز 100روپے کلو، آلو 50روپے، بھنڈی 140 روپے کلو،مٹر200روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔سبزیوں کی قیمت کا تعین اور سرکاری نرخ پر عمل درآمد کی ذمے داری

سندھ حکومت کے محکمہ بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز پر عائد ہوتی ہے،سندھ حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین اور ان پر عمل درآمد کے لیے روایتی غفلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔شہری سائیں سرکار اور تبدیلی سرکار کو مہنگائی کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں ، کنٹرولر جنرل آف پرائسز کمشنر کراچی کی جانب سے 15نومبر کو جاری کردہ سبزیوں کے نرخ نامے میں آلو کی خوردہ قیمت 30روپے کلو مقرر ہے، بازاروں میں آلو 50 روپے کلو فروخت ہورہا ہے، پیاز کی قیمت 78روپے مقرر ہے جو 100روپے کلو فروخت ہورہی ہے، بھنڈی کی سرکاری قیمت 103روپے کلو مقرر ہے۔شہر بھر میں بھنڈی 120روپے کلو سے کم پر نہیں مل رہی، مٹر کی قیمت بھی 103 روپے کلو مقرر کی گئی تاہم مٹر200 روپے کلو قیمت پر فروخت ہورہی ہے موسم سرما کی سوغات سرخ گاجریں بھی ریکارڈ بلند ترین قیمت 100روپے کلو میں فروخت ہورہی ہیں۔ٹماٹر 70سے80 روپے پا اور 250 روپے کلو فروخت ہورہے ہیں، تاہم سرکاری نرخ نامہ میں ٹماٹر کی قیمت 183 روپے کلو مقرر کی گئی ہے، دیگر سبزیاں اروی 73روپے کی سرکاری قیمت کے بجائے 120روپے کلو، لوکی 33 روپے کے بجائے 80روپے کلو توری ٹینڈے 100 روپے کلو گوبھی بیگن 80 سے 100روپے کلو فروخت ہورہے ہیں، شلجم چقندر کی قیمت بھی 100روپے کے آس پاس وصول کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…