منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے نیا پلان بنا لیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے دولت مند افراد اور دیگر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ملک گیر ٹیکس دستاویزی مہم کے لیے جامع منصوبہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔رپورٹ کے وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو 30نومبر تک تفصیلی منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں پیش کیے گئے اقدامات پر آئندہ 2 سال میں عملدرآمد کیا جائے گا۔ایک سینئر ٹیکس افسر نے کہا کہ

دستاویزی مہم سے کاروباروں، رئیل اسٹییٹ اور انڈسٹریز سے متعلق معلوم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے بتایا کہ ‘ وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اس حوالے سے مقررہ مدت میں تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔3 اکتوبر کو وزیراعظم نے اعلیٰ حکام سے اجلاس میں مقامی ٹیکسز میں اضافے سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس حصول کے صحیح اقدامات اٹھانے چاہیئیں اور ان پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے۔ٹیکس دستاویزی مہم کے تحت مغربی ممالک کی طرح تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کے لیے قومی شناختی کارڈ کو سوشل سیکیورٹی نمبر کے تحت تمام مقاصد کے لیے اپنانے کا فیصلہ کیا،‎ جس کے لیے جون 2020 کی ڈیڈلائن طے کی گئی ہے۔اجلاس میں غور کیا گیا تھا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور ڈیٹا مرتب کرنا تمام سرکاری اور نجی اداروں جیسا کہ مالیاتی اداروں اور یوٹیلیٹی کمپنیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ساتھ ہی اجلاس میں وزارت قانون و انصاف کواسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مشاورت کے بعد ایف بی آر کے ساتھ مالیاتی ٹرانزیکشنز کی رئیل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ کو یقینی بنانے کے لیے بینکنگ قوانین میں ضروری ترامیم 31 دسمبر تک پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ 30 نومبر تک کمرشل بجلی اور گیس کنیکشنز کو فوری طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ اجلاس میں ملک میں غیر منقولہ جائیدادوں کے سروے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا، اس اقدام سے ایف بی آر کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں موجود دولت سے متعلق جاننے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نے غیر منقولی جائیدادوں کے ملک گیر ڈیجیٹل سروے کی منظوری بھی دی جس کی تکمیل کے لیے 30 جون 2021 کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔موجودہ حکومت کے پہلے سال میں 7 لاکھ 83 ہزار 39 ٹیکس دہندگان نے ایمنسٹی سمیت مختلف اسکیمز کے تحت ایف بی آر میں ریٹرنز فائل کیے اور نئے فائلرز کی وجہ سے2 ارب 58 کروڑ روپے ریونیو جمع کیا گیا۔حکومت کے پہلے سال میں ٹیکس ریٹرن فائلرز کی مجموعی تعداد گزشتہ برس کے 15 لاکھ 14 ہزار کے مقابلے میں ٹیکس ایئر 18 میں 25 کروڑ 61 لاکھ پر پہنچ گئی جس میں ایک سال کی مدت میں 69.1 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…