جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ہزاروں سال سے بابری مسجد کے زیر استعمال زمین پر مندر بنانے کی اجازت، جمعیت علمائے اسلام(ف) کا شدید ردعمل سامنے آگیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مذہبی تعصب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں سال سے بابری مسجد کے زیر استعمال زمین پر مندر بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے جبکہ بھارت اپنی ہی ملک میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں

سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہم کسی بھی صورت تسلیم نہیں کرتے بابری مسجد مسلمانوں کا ایک تاریخی مسجد تھا اور ہندؤں نے بابری مسجد کو شہید کیا دنیا کو غلط پیغام دیا ہے’قومی اسمبلی میں کمیٹی کے سربراہ نے جس لب و لہجے کے ساتھ تقریر کی ہے اس لب و لہجے نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے کہ وہ مفاہمت کے جذبے سے عاری ہیں اور ان کی گفتگو مفاہمت کی نہیں بلکہ تصادم کی لگ رہی ہے ان خیالات کااظہارانہوں نے آن لائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بھارتی حکومت اور بھارتی سپریم کورٹ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے پر بزد ہیں اور ہمارے حکمران سکھ یاتریوں کو کرتار پور بارڈر کو کھول رہے ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں موجودہ حکمران مسلمانوں کو آسانیاں دینے کی بجائے ان پر اضافی ٹیکس لگانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ سکھ برادری کے لئے ایک سال کیلئے مفت ویزا دیکر اچھا نہیں کررہے ہیں جمعیت علماء اسلام شروع دن سے یہ کہہ رہے ہیں یہ حکومت قادیانیوں اور غیر مسلم کو خوش کرنے پر تلے ہوئے ہیں مولانا عبدالواسع نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے لہجے کو تصادم کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان قبضہ گروپ کے لیے نہیں بنابات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کل میں نے یہ بات کہی تھی کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے لیکن اس کے اندر ہمارے موقف کو سمجھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ ہماری پوری بات اپنی قیادت تک پہنچانے کی جرات رکھتی ہے، لہذا ہم نے انہیں پیغام دیا کہ ہمارے پاس آ تو استعفیٰ لے کر آ خالی ہاتھ نہ آیا کرو انہوں نے کہا کہ ‘قومی اسمبلی میں کمیٹی کے سربراہ نے جس لب و لہجے کے ساتھ تقریر کی ہے اس لب و لہجے نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے کہ وہ مفاہمت کے جذبے سے عاری ہیں اور ان کی گفتگو مفاہمت کی نہیں بلکہ تصادم کی لگ رہی ہے میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے اندر واقعی مفاہمت کی خواہش ہے تو آپ کا لب و لہجہ اور پارلیمانی گفتگو بھی اس کی تائید کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…