بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

100 سالہ ورثے کی حفاظت سعودی خاندان نے گھر کو میوزیم بنا ڈالا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے ایک خاندان نے اپنے ایک سو سالہ پرانے ورثے کو محفوظ بناتے ہوئے گھر میں پرانے دور میں عام استعمال کی اتنی چیزیں جمع کردی ہیں کہ وہ ایک اچھا خاص میوزیم دکھائی دیتا ہے۔الرشید میوزیم کے مالک خالد عبد اللہ الرشید نے عرب ٹی وی کو بتایاکہ ہمارا خاندان القصیم گورنری کے

علاقے عنیزہ میں 100 سال سے نوادرات اور پرانے دور میں عام استعمال ہونے والی چیزیں جن میں برتن، لال ٹینیں، پرانے ریڈیو اور ٹیلی ویڑن اور دیگر مشینیں بھی شامل ہیں ذخیرہ کرتا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی ورثے کے تحفظ کے مشن کے تحت ہم نے مختلف پرانی اشیاء کے 15 ہزار نوادرات جمع کیے۔ 1998ء میں ایک خاص میوزیم قائم کیا جسے ہم الرشید میوزیم کا نام دیا گیا۔ اس عجائب گھر میں ہم نے ان تمام اشیاء کو سیلقے اور ترتیب کے ساتھ رکھا جوہمارا خاندان ایک سو سال سے جمع کرتا چلا آ رہا ہے۔الرشید خاندان نے اپنے ورثے کی حفاظت کرتے ہوئے بے شمارچیزیں اکھٹی کیں۔ ان میں زرعی اوزار، بندوقیں جنہیں ان کے آبائو اجداد خرید کرتے رہے، پرانے برتن اور ان گنت دیگر اشیاء شامل ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ میوزیم میں 150 سال پرانی بندوق کی باقیات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی مقاصد اور آب پاشی کے لیے استعمال ہونے والی ایک مشین جو 60 سال پرانی ہے اس عجائب گھر کا حصہ ہے۔الرشید میوزیم نے سعودی عرب میں 70 نمائشوں اور میلوں میں حصہ لیا۔ اب اس کی شہرت دور دور تک پھیل چکی ہے اور لوگ دور دراز سے دیکھنے آتے ہیں۔الرشید کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کے بچے، بڑے اور خواتین صرف تاریخی نوادرات جمع کرنے میں مشہور نہیں بلکہ وہ کارپینٹری کے طور پر دروازوں پر نقش و نگاری ، ہر طرح کی دستکاری اور زراعت کے پیشوں میں بھی مشہور ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…