منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

دفاعی معاہدے پر سعودی عرب نے ترانہ ریلیز کردیا

datetime 18  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر صحافی صابر شاکر نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر ریٹائرمنٹ کے بعد سعودی عرب میں جنرل (ر) راحیل شریف کی جگہ ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر اپنے بیان میں صابر شاکر کا کہنا تھا کہ پاک-سعودی دفاعی معاہدہ ایک بڑی کامیابی ہے جس پر کئی برسوں سے بات چیت جاری تھی۔

تاہم، یہ معاہدہ اس لیے مؤخر تھا تاکہ ایران کو یہ تاثر نہ ملے کہ اس کے خلاف کوئی اتحاد تشکیل دیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان پسِ پردہ سفارتکاری شروع ہوئی، جس میں عمران خان نے ذاتی کوششیں بھی کیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب آج بہتر تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔صابر شاکر کے مطابق یمن جنگ کے خاتمے میں بھی پاکستان نے نمایاں کردار ادا کیا، اور اب جبکہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات خوشگوار ہیں، اس پس منظر میں یہ دفاعی معاہدہ طویل المدتی ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ جنرل عاصم منیر نومبر میں ریٹائرمنٹ کے بعد سعودی عرب میں جنرل (ر) راحیل شریف کی جگہ نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…