منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے ملک بھر کے مدارس سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا، تمام امور طے پا گئے

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کیلئے ڈائریکٹریٹ کے قیام سے متعلق تمام امور کو حتمی شکل دے دی۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منصوبے سے منسلک ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹریٹ جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن کو فعال کیے جانے کا اعلان اگلے چند روز میں متوقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹریٹ جی 8 میں بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکول (بی ای سی ایس) کی بلڈنگ میں ہوگا اور 16 شہروں میں ڈائریکٹریٹ کے ذیلی دفاتر ہوں گے۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ وزارت تعلیم کے جوائنٹ ایجوکیشنل ایڈوائزر پروفیسر رفیق طاہر کو ڈائریکٹریٹ کا سربراہ بنائے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹریٹ اور ذیلی دفاتر کو فعال کرنے کے لیے (بی ای سی ایس) اور نیشنل کمیشن آف ہیومن ڈیولپمنٹ کے متعدد ملازمین کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ جی ہاں ہم نے مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں سہولیات فراہم کرنے سے متعلق تمام امور کو حتمی شکل دے دی اور بہت جلد خصوصی مجاذ کا حامل ڈائریکٹریٹ تمام مدارس کے معاملات دیکھے گا۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ڈائریکٹریٹ وفاقی حکومت کے ماتحت ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹریٹ مدارس کی رجسٹریشن سمیت ان کے لیے سہولت سینٹر کی طرح کام کریگا۔شفقت محمود نے بتایا کہ مدارس کے طلبا و طالبات کو عصرِ حاضر کی جدید تعلیم بھی دی جائے گی اور وفاقی بورڈ کے تحت ان کے امتحانات ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ اتحاد تنظیم المدارس کے مذہبی اسکالرز پہلے ڈائریکٹریٹ کی حمایت کرچکے ہیں۔وزارت تعلیم کے حکام سے متعدد اجلاس کے بعد اتحاد تنظیم المدارس کے ترجمان نے تمام منسلک مدارس کی رجسٹریشن پر آمادگی کا اظہار کیا تھا ۔

تاہم جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے فریق بننے سے گریز کیا اور کسی اجلاس میں شرکت نہیں دی۔ نیکٹا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع تمام مدارس کی جیوٹیگنگ مکمل کرلی گئی ہے جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے فاٹا کے 85 فیصد، سندھ کے 80 فیصد، خیبرپختونخوا کے 75 فیصد اور بلوچستان کے 60 فیصد مدارس کی جیو ٹیگنگ کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…