پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

شہریت منسوخ ہونے کے بعد جب حافظ حمداللہ سیکرٹری داخلہ کے پاس گئے تو انہوں نے آگے سے کیا جواب دیا ، نئی بحث چھڑ گئی

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے پاکستانی شہریت کی منسوخی پر سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ جب ایک شخص سینیٹر رہا ہو، وزیر رہا ہو اور پاکستان میں بار بار الیکشن لڑ چکا ہو، کیا ہماری ایجنسیوں اور اداروں نے اس کی شہریت کے حوالے سے تصدیق نہیں کی۔گزشتہ روز نادرا نے جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ کی

پاکستانی شہریت منسوخ کر دی تھی جبکہ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی تھی کہ حافظ حمداللہ کو ٹاک شوز میں نہ بلایا جائے۔سابق سینیٹر نے فیصلے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا نے نادرا کے فیصلے کی روشنی میں مجھے غیر ملکی قرار دیتے ہوئے میرے ٹی وی ٹاک شوز پر پابندی عائد کی۔حافظ حمداللہ نے کہا کہ جب ایک شخص سینیٹر رہا ہو، وزیر رہا ہو اور پاکستان میں بار بار الیکشن لڑ چکا ہو، کیا ہماری ایجنسیوں اور اداروں نے اس کی شہریت کے حوالے سے تصدیق نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ جب میں نے اکتوبر 2002 میں پرویز مشرف کے دور میں الیکشن لڑا تو اس وقت ایجنسیاں بہت زیادہ متحرک تھیں کیونکہ 2001 میں نائن الیون کا واقعہ ہوا تھا اور ایک سال بعد الیکشن ہو رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میری پیدائش چمن کے میونسپل علاقے کے محلے حاجی حسن کی ہے، آج بھی وہ محلہ موجود ہے اور آج بھی وہ جگہ موجود ہے جہاں میری پیدائش ہوئی تھی، چمن کے سارے لوگ مجھے جانتے ہیں۔دوسری جانب نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے جے یو آئی ف کے اہم رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کی پاکستانی شہریت منسوخ ہونے کے فیصلے پر سیکریٹری داخلہ بھی ہنس پڑے۔اب حافظ حمداللہ نے اسپیشل سیکریٹری داخلہ سے شناختی کارڈ بحال کرنے کی اپیل کر دی ہے۔حافظ حمد اللہ کے مطابق میں نے اسپیشل سیکریٹری داخلہ میاں وحیدالدین سے ملاقات کرکے انہیں معاملیکا بتایا جس پر وہ بھی ہنس رہے تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…