ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

شہریت منسوخ ہونے کے بعد جب حافظ حمداللہ سیکرٹری داخلہ کے پاس گئے تو انہوں نے آگے سے کیا جواب دیا ، نئی بحث چھڑ گئی

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے پاکستانی شہریت کی منسوخی پر سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ جب ایک شخص سینیٹر رہا ہو، وزیر رہا ہو اور پاکستان میں بار بار الیکشن لڑ چکا ہو، کیا ہماری ایجنسیوں اور اداروں نے اس کی شہریت کے حوالے سے تصدیق نہیں کی۔گزشتہ روز نادرا نے جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ کی

پاکستانی شہریت منسوخ کر دی تھی جبکہ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی تھی کہ حافظ حمداللہ کو ٹاک شوز میں نہ بلایا جائے۔سابق سینیٹر نے فیصلے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا نے نادرا کے فیصلے کی روشنی میں مجھے غیر ملکی قرار دیتے ہوئے میرے ٹی وی ٹاک شوز پر پابندی عائد کی۔حافظ حمداللہ نے کہا کہ جب ایک شخص سینیٹر رہا ہو، وزیر رہا ہو اور پاکستان میں بار بار الیکشن لڑ چکا ہو، کیا ہماری ایجنسیوں اور اداروں نے اس کی شہریت کے حوالے سے تصدیق نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ جب میں نے اکتوبر 2002 میں پرویز مشرف کے دور میں الیکشن لڑا تو اس وقت ایجنسیاں بہت زیادہ متحرک تھیں کیونکہ 2001 میں نائن الیون کا واقعہ ہوا تھا اور ایک سال بعد الیکشن ہو رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میری پیدائش چمن کے میونسپل علاقے کے محلے حاجی حسن کی ہے، آج بھی وہ محلہ موجود ہے اور آج بھی وہ جگہ موجود ہے جہاں میری پیدائش ہوئی تھی، چمن کے سارے لوگ مجھے جانتے ہیں۔دوسری جانب نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے جے یو آئی ف کے اہم رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کی پاکستانی شہریت منسوخ ہونے کے فیصلے پر سیکریٹری داخلہ بھی ہنس پڑے۔اب حافظ حمداللہ نے اسپیشل سیکریٹری داخلہ سے شناختی کارڈ بحال کرنے کی اپیل کر دی ہے۔حافظ حمد اللہ کے مطابق میں نے اسپیشل سیکریٹری داخلہ میاں وحیدالدین سے ملاقات کرکے انہیں معاملیکا بتایا جس پر وہ بھی ہنس رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…