جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

میاں صاحب مارشل لاء کا خطرہ ہے آپ کو ہر حال میں جنرل راحیل شریف کو ایکسٹینشن دینی ہو گی ، جب شہباز شریف اور چوہدری نثار نے نواز شریف سے یہ الفاظ کہے توسابق وزیراعظم نے ایسا کیا جواب دیا کہ دونوں لاجواب ہو گئے

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )معروف صحافی و کالم نگار انصار عباسی اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔میاں نواز شریف اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران جب برطانیہ میں ہارٹ سرجری کے لیے گئے ہوئے تھے تو ایک موقع پر شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان اُن سے ایمرجنسی ملاقات کے لیے پہنچے۔ ذرائع کے مطابق موضوعِ بحث اُس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف تھے۔

شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان وزیراعظم سے درخواست کر رہے تھے کہ جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر دیں ورنہ مارشل لا کا خطرہ ہے۔ شہباز اور نثار واقعی پریشان تھے لیکن نواز شریف جو اپنی ہارٹ سرجری کے بعد آرام کر رہے تھے، نے اُنہیں صاف صاف کہہ دیا کہ وہ کسی صورت ایکسٹینشن نہیں دیں گے۔ ذرائع کے مطابق جب نواز شریف سے اس خوف کا اظہار کیا گیا کہ پھر مارشل لا بھی لگ سکتا ہے تو اُنہوں نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی ہو، میں ایکسٹینشن نہیں دوں گا۔جب دوسری طرف سے دوبارہ اصرار ہوا تو میاں صاحب نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ دونوں میں سے کوئی وزیراعظم بن جائے، میں تو ایسا نہیں کر سکتا۔عموماً کہا جاتا ہے کہ شریف برادارن ’گڈ بوائے اور بیڈ بوائے‘ کا کھیل کھیلتے ہیں لیکن جہاں تک میری معلومات ہیں، دونوں کا اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ڈیل کرنے کا طریقہ کار ہمیشہ سے مختلف رہا ہے۔ شریف فیملی کے ایک اہم فرد کا کہنا ہے کہ دونوں میں اس معاملہ میں اختلافِ رائے کے باوجود شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپ سکتے۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف کو نواز شریف سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن تین اہم افراد سے ایک ملاقات کے دوران شہباز شریف نے بتایا کہ وہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کے حق میں نہیں اور معاملات کو افہام و تفہیم سے چلانے کے قائل ہیں لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کی پیٹھ میں چھرا گھونپیں گے تو یہ توقع اُن سے نہ رکھی جائے، وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد شہباز شریف کے لیے مشکلات پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔اختلافِ رائے کے باوجود شریف فیملی میں نواز شریف اور شہباز شریف کی حد تک تو ایک مضبوط رشتہ قائم ہے لیکن جب بچوں کی بات آتی ہے تو پھر معاملات میں گڑبڑ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…