ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

نواز شریف کب رہا ہونگے؟سابق وزیر اعظم کے سامنے ایک اور مشکل کھڑی ہوگئی ،کارکن شدید مایوس

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتے جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ آئندہ ہفتے ان کی درخواست ضمانت پر کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ اسی طرح کی ایک درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ روز ان کی ضمانت منظور کی۔

دونوں عدالت ہائے عالیہ میں درخواستیں نواز شریف کے برادر خورد اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے دائر کی تھیں،روزنامہ جنگ کے مطابق طبی بنیادوں پر دائر ان درخواستوں میں نواز شریف کی تشویشناک حالت کا حوالہ دیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے حکم میں یہ واضح کیا گیا کہ دو رکنی بنچ اس بات کی قائل ہے کہ تشویشناک حالت کے باعث سابق وزیراعظم فوری رہائی کے مستحق ہیں۔ نواز شریف جو دسمبر 2018 سے جیل میں قید ہیں۔ اس دوران بغرض علاج ان کی 6ہفتوں کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منظور ہونے پر رہائی ملی تھی۔ شریف خاندان ان کی بگڑتی کیفیت کے بارے میں مہینوں سے خبردار کرتا چلا آ رہا تھا۔ تاہم سیاسی مخالفین کو یقین نہیں آرہا تھا۔ ان کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ بھی نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کے لئے استدعا سے مطمئن نہیں تھی حالانکہ حکومت پنجاب کے تشکیل کردہ کم از کم 6میڈیکل بورڈز نے نواز شریف کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ماہر ڈاکٹروں کے ذریعہ فوری علاج کی ضرورت پر زور دیا۔ حکومت کو جب یہ باور ہو گیا کہ نواز شریف کی طبیعت تیزی سے بگڑتی جا رہی اور زندگی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے تو اس نے بھی اپنے سخت مؤقف میں نرمی پیدا کر لی۔ لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس کو سینئر ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کردہ رپورٹس یکساں ہیں۔

جن میں ان کی زندگی کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنی آبزرویشن میں یہ اہم ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کو قانونی بنیاد پررہائی نہیں دی جا سکتی۔ تاہم طبی بنیادوں پر غور ممکن ہے ۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت منگل کو ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…