بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مزید 2 برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے کشمیر اور کشمیریوں سےمتعلق ایسا اعلان کردیا کہ بھارت جل بھن کر رہ گیا‎

datetime 21  اکتوبر‬‮  2019 |

لندن(این این آئی)برطانوی پارلیمنٹ کے مزید دو ارکان نے مقبوضہ کشمیر میںمسلسل لاک ڈائون اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی رکن پارلیمنٹ Matt Rodda نے کہاکہ کشمیریوں کا گزشتہ 77روز سے محاصرے میں ہونا افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہاکہ وہ مظلوم کشمیریوں کے لیے اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی ، موبائل فون اورانٹرنیٹ زندگی کی اہم ضرورتیں ہیںاور مجھے حیرت ہے کہ کشمیر میں 90 لاکھ لوگوں کو بھارتی حکومت کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے سیل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ایک اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فلپس لی نے کہا کہ اب دنیا کو کشمیریوں کی بات سننا پڑے گی جو اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کو تنازعہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانا ہوگا۔‎ اس موقع پر آزادجموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کشمیرکاز کی حمایت کرنے پر ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ اداکرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ آگے آئے اورجنوبی ایشیا کے امن کو بچائے جس کوبھارتی حکومت نے 90لاکھ معصوم کشمیریوں کو محصورکرکے دائو پر لگا رکھا ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین عبدالرشید ترابی نے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی پوری سیاسی قیادت کو گرفتار کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی رٹ مقبوضہ کشمیر میں کیسے قائم ہے اوراسے وہاں کتنی عوامی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جدوجہد کررہے ہیںاورعالمی برادری کو مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لینا چاہیے اور تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے کرداراداکرنا چاہیے۔ کشمیری رہنما الطاف احمد بٹ نے کہاکہ کشمیریوں گزشتہ 77روز سے بے شمار مصائب اورمشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور صرف پھلوں اور دستکاری کی صنعتوں کو دو ارب ڈالر کا نقصان ہواہے جبکہ پانچ لاکھ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ تحریک کشمیر کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کہاکہ کشمیریوں کی آواز اب برطانیہ کے ہرشہر اور گائوں میں گونجتی ہے۔ اس موقع پر مبین ڈار، راجہ شکیل ، میاں ایم سلیم، قونصلرطاہر مہر، قونصلر عبدل لائس اورچوہدری منظور حسین نے بھی خطاب کیا۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…