جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مزید 2 برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے کشمیر اور کشمیریوں سےمتعلق ایسا اعلان کردیا کہ بھارت جل بھن کر رہ گیا‎

datetime 21  اکتوبر‬‮  2019 |

لندن(این این آئی)برطانوی پارلیمنٹ کے مزید دو ارکان نے مقبوضہ کشمیر میںمسلسل لاک ڈائون اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی رکن پارلیمنٹ Matt Rodda نے کہاکہ کشمیریوں کا گزشتہ 77روز سے محاصرے میں ہونا افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہاکہ وہ مظلوم کشمیریوں کے لیے اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی ، موبائل فون اورانٹرنیٹ زندگی کی اہم ضرورتیں ہیںاور مجھے حیرت ہے کہ کشمیر میں 90 لاکھ لوگوں کو بھارتی حکومت کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے سیل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ایک اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فلپس لی نے کہا کہ اب دنیا کو کشمیریوں کی بات سننا پڑے گی جو اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کو تنازعہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانا ہوگا۔‎ اس موقع پر آزادجموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کشمیرکاز کی حمایت کرنے پر ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ اداکرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ آگے آئے اورجنوبی ایشیا کے امن کو بچائے جس کوبھارتی حکومت نے 90لاکھ معصوم کشمیریوں کو محصورکرکے دائو پر لگا رکھا ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین عبدالرشید ترابی نے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی پوری سیاسی قیادت کو گرفتار کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی رٹ مقبوضہ کشمیر میں کیسے قائم ہے اوراسے وہاں کتنی عوامی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جدوجہد کررہے ہیںاورعالمی برادری کو مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لینا چاہیے اور تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے کرداراداکرنا چاہیے۔ کشمیری رہنما الطاف احمد بٹ نے کہاکہ کشمیریوں گزشتہ 77روز سے بے شمار مصائب اورمشکلات کا سامنا کررہے ہیں اور صرف پھلوں اور دستکاری کی صنعتوں کو دو ارب ڈالر کا نقصان ہواہے جبکہ پانچ لاکھ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ تحریک کشمیر کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کہاکہ کشمیریوں کی آواز اب برطانیہ کے ہرشہر اور گائوں میں گونجتی ہے۔ اس موقع پر مبین ڈار، راجہ شکیل ، میاں ایم سلیم، قونصلرطاہر مہر، قونصلر عبدل لائس اورچوہدری منظور حسین نے بھی خطاب کیا۔ ‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…