بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ماں کی اپنی اولاد سے لازوال محبت کی مثال، بچے کو سینے سے چمٹائے ماں کی لاش نے سب کو رلا دیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2019 |

روم(این این آئی) سمندر کی تہہ میں ماں کے اپنے شیر خوار بچے کو سینے سے چمٹائے 10 دن پرانی لاش برآمد ہونے پر غوطہ خور رو پڑے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی میں تیونس سے آنے والی تارکین وطن کی کشتی 10 روز قبل بحیرہ روم میں ڈوب گئی تھی۔

غوطہ خوروں کی ایک ٹیم کو سمندر میں 60 میٹر گہرائی میں کشتی کے ملبے سے ایک خاتون کی لاش ملی۔غوطہ خوروں کا کہنا ہے کہ ماں نے اپنے بچے کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے اپنے سینے سے چمٹائے رکھا ہوا تھا اور دس دن بعد بھی ماں بچہ اسی حالت میں مردہ پائے گئے۔ اس منظر نے انہیں رلا دیا۔ غوطہ خور ماں اور بچے کی لاش کو بہ مشکل ایک دوسرے سے علیحدہ کیا۔ یہ واقعہ ماں کی اپنی اولاد سے لازوال محبت کی ایک مثال ہے۔غربت سے پریشان اپنے اور بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے تارکین وطن غیر قانونی طور پر خوشحال ممالک کا رخ کرتے ہیں اور اس دوران کشتی الٹنے کے واقعات میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ ساحل پر مردہ پائے گئے شام کے ایلان، میکسیکو کے باپ بیٹی جو ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے اور اب بحیرہ روم کے اس واقعے نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔واضح رہے کہ 10 روز قبل تیونس سے اٹلی جانے کی کوشش میں کشتی بحیرہ روم میں ڈوب گئی تھی جس میں 50 افراد سوار تھے جن میں سے 22 کو بچالیا گیا تھا جب کہ 28 مسافر ڈوب گئے تھے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…