جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں منہ کے کینسر کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ اس کے پھیلنے کی پیچھے کیا وجوہات ہیں ؟عالمی ادارے صحت کے ہوشربا انکشافات، انتباہ جاری کر دیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن)پاکستان میں منہ کے کینسرکی شرح ہولناک حد تک بڑھتی جاری ہے جب کہ پاکستان سمیت جنوبی ایشائی ممالک میں مردوں میں منہ کا کینسر سرفہرست ہے۔پاکستان میں منہ کا کینسر 43 فیصد ہے جس کی بنیادی وجہ گٹکا، چھالیہ، مین پوری، نسوارہے ،عالمی ادارے صحت کے مطابق کراچی میں منہ کے کینسر کی شرح 30 فیصد ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 80 لاکھ سے زائد افراد منہ، جبڑے، حلق سمیت

دیگرمختلف اقسام کے کینسرکے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یونین فار انٹرنیشنل کنٹرول(یو آئی سی سی)کے مطابق 2030 تک دنیاکی ڈھائی کروڑ سے زاہد آبادی کینسر کا شکار ہوجائے گی۔منہ کے کینسراور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع اور جناح اسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر رزاق ڈوگر نے ایکسپریس ٹربیون کاکہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ انسانی جینز میں رونما ہونے والے تغیرات ہیں جوکہ کینسر کا سبب بنتے ہیں۔پاکستان میں ہرسال منہ سمیت دیگرکینسر سے 14لاکھ سے زائد افرادکینسر جسے موذی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ گٹکے میں شامل زہریلے اجزاء سے حلق ،پھیپڑوں،گردوں اور پروسٹیٹ کے سرطان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ پان، چھالیہ، گٹکے اورسگریٹ نوشی کے استعمال سے یہ مرض 14 سے 15 سال کے نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔انھوں نے بتایا کہ گٹکے میں مختلف کیمیکلز اور خاص قسم کا نشہ ا?ور اشیا شامل کی جاتی ہے جسکی وجہ سے منہ میں (ّچھالے) السر بننا شروع ہوجاتا ہے جو بڑے زخم کی شکل بھی اختیارکرلیتے ہیں، سول اسپتال اونکالوجی یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر نورمحمد سومروکاکہنا تھا کہ جنوری2019سے وسط اکتوبرتک 900مریضوں کو منہ اورحلق کے کینسر میں معائنہ کیاجس میں زیادہ ترنوجوان کی تعداد شامل ہے۔آغا خان یونیورسٹی کے حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں بے دھواں تمباکوکے استعمال سے

پیدا ہونے والے خطرات کوکافی حد تک نظر انداز کیا جارہاہے۔اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں 300 ملین سے زائد افراد کسی نہ کسی قسم کا دھواں تمباکو استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے 85 فیصد افراد جنوبی ایشیائی ممالک مثلاً پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ہیں۔اس وقت کراچی میں گٹکے کی کم از کم 50 سے زائد چھوٹی بڑی فیکٹریاں اورکارخانے قائم ہیں جو روزانہ 5 لاکھ ٹن سے زیادہ گٹکا تیارکرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…