اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

جنرل قمر باجوہ کی دھرنا رکوانے کی کوشش، مولانا فضل الرحمان نے کیا جواب دیا؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کیوں پریشانی کا شکار ہیں؟ حامد میر کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 10  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی دھرنا رکوانے کی کوشش، معروف صحافی حامد میر نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید چاہتے ہیں مولانا فضل الرحمان یہ دھرنا نہ دیں، حامد نے کہا کہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے دھرنا رکوانے کی پوری کوشش کی ہے مگر مولانا فضل الرحمان نہیں مان رہے، انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کی تحریک کا موازنہ ماضی کی تحریکوں سے نہیں کیا جا سکتا،

حامد میرنے کہا کہ یہ تحریک نہ تو1977ء کی تحریک ہے جس میں امریکن سی آئی اے پی این اے کے پیچھے تھی اور نہ یہ تحریک 2014ء کی عمران خان کی تحریک ہے جس کے پیچھے جنرل راحیل شریف اور دوسرے لوگ تھے، اس موقع پر معروف صحافی نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کی تحریک بالکل مختلف ہے اس میں پیپلز پارٹی اورن لیگ دونوں پریشانی کا شکار ہیں، دوسری جانب حامد میر نے کہا کہ نوازشریف نے جیل سے ایک خط کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کو پیغام بھجوا دیا ہے کہ ان کی پارٹی اور کارکن دھرنے میں شریک ہوں گے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں  گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ شہبازشریف دھرنے میں شرکت کے حامی نہیں۔ن لیگ کے رہنما بند کمرے میں مولانا فضل الرحمان کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ دھرنا نہ کریں لیکن باہر آ کر بیان بدل جاتا ہے۔دھرنے کے معاملے پر نوازشریف کی پوزیشن بہت واضح ہے لیکن ان کے قریبی ساتھی تذبذب کا شکار ہیں۔ پیپلز پارٹی میں بھی یہی پوزیشن ہے۔ آصف زرداری نے مولانا کی حمایت کی ہے جبکہ ان کے پارٹی رہنما ابھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔حامد میر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن  نے سب کچھ لکھ کر رکھا ہوا ہے کہ پہلے مرحلے میں کیا کرنا ہے اور بعد کی حکمت عملی کیا ہوگی۔وہ دھرنا لازمی دیں گے لیکن سیاسی جماعتوں کو پتہ نہیں کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی مذاکرات شروع کرے۔

ان کے ساتھ ایک سیاسی ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے، ان کو بھی فیس سیونگ کی ضرورت ہے۔انہیں کہا جائے کہ آپ آجائیں، آپ اسلام آباد میں جلسہ کریں اور اس کے بعد آپ پشاور جائیں وہاں جلسہ کریں لیکن دھرنا نہ دیں۔حامد میر نے کہا کہ اگر حکومت نے مس ہینڈلنگ کی اور مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کر لیا یا کریک ڈاؤن شروع کر دیا تو مولانا فضل الرحمن اسلام آباد آئے بغیر ہی اپنی جنگ جیت جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی بھی حکومت کے جس قدر بوکھلائے ہوئے بیانات آ رہے ہیں۔خصوصی طور پر خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں اس سے ان کی پارٹی اور حکومت کمزور جبکہ مولانا فضل الرحمن مضبوط ہو جائیں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ مولانا کو بھی فیس سیونگ دے اور اپنی بھی فیس سیونگ کرے۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ شب اپنے آزادی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…