جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

شام میں ترک فوجی کارروائی پر عالمی برادری چلا اٹھی،شدید ردعمل

datetime 10  اکتوبر‬‮  2019 |

پیرس/لندن/ برلن/واشنگٹن (این این آئی)شام میں ترکی کی جاری فوجی کارروائی پر عالمی برادری کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، بیلجیئم، پولینڈ اور ہالینڈ نے شمال مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ترک فوجی آپریشن کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ہالینڈ کے وزیر خارجہ سٹیف بلوک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انقرہ نے شام میں آپریشن شروع کرنے کے بعد ترکی کے سفیر کو

طلب کرکے ان سے سخت احتجاج کیا ہے۔مسٹر سٹیف بلوک نے ایک بیان میں کہا ان کے ملک نے شمال مشرقی شام پر ترک حملے کی مذمت کی ہے۔ ہم ترکی سے شام میں جاری جارحانہ مہم جوئی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور جنوبی افریقا کے سفیر جیری میتھیوز ماتجیلا سے ترکی سے شہریوں کی جان ومال حفاظت یقینی بنانے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زرو دیا۔اکتوبر کے مہینے کے لیے کونسل کے صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد از جلد سلامتی کونسل کا اجلاس ہوگا۔ انہوں نے شام میں ترکی کی فوجی کارروائی روکنے کے لیے مختلف ممالک کو قرارداد کا مسودہ تیار کرنے کی بھی دعوت دی۔امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکہ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوجی کارروائی پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔امریکی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیرِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ ترکی کے حفاظتی خدشات حقیقی ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اطلاعات کہ امریکہ نے ترکی کو عسکری کارروائی شروع کرنے کی اجازت دی، صریحاً غلط ہیں۔ہم نے ترکی کو کوئی گرین لائٹ (اجازت) نہیں دی۔واضح رہے ترکی نے ترک فوج نے شام میں اپنی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ ترکی

اِس علاقے میں ایک محفوظ زون بنانا چاہتا ہے جہاں کرد ملیشیا کا وجود نہ ہو اور جہاں ترکی آنے والے تقریباً36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو رکھا جائے۔ یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خطے سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی ہے اور اس اقدام کو دراصل حملے کی اجازت کے حربے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔ترکی کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے اور یورپی یونین نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ حملہ بند کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…