اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

جج کو جس منصب پر بیٹھایا گیا ہے اس کا احتساب بھی کڑا ہونا چاہیے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا دبنگ خطاب

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاہے کہ جج کو جس منصب پر بیٹھایا گیا ہے اس کا احتساب بھی کڑا ہونا چاہیے،جج کو بغیر کسی سفارش کے غیر جانبدار طریقے سے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے،منصف کا آزاد منش ہونا عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کے لازم ہے۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عدالتی آزادی کا مفہوم اور اسکا مقصد کے عنوان سے ہائی کورٹ میں سیمینار جاری ہے،جج کو جس منصب پر بیٹھایا گیا ہے اس کا احتساب بھی کڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ جج کو بغیر کسی سفارش کے غیر جانبدار طریقے سے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ایک منصف کیلئے آزاد ہونا اس لیے ضروری ہے کہ وہ دیانتداری سے فیصلے کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر کسی جج نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ وہ صرف پاپولر فیصلہ کرے وہ بھی درست نہیں۔ انہوںن ے کہاکہ یک جج پر کئی طرح کے طبقات اثر انداز ہو سکتے ہیں، جج پر اثر طاقت ور قوتوں کا بھی ہوسکتا ہے،جج پر دوستوں رشتہ داروں کا بھی اثر ہوسکتا ہے،کسی منصف کے بارے میں پوچھنا ہو تو اس کی بار سے معلوم کرلیں۔ انہوں نے کہاکہ منصف کا آزاد منش ہونا عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کے لازم ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں بیرون ملک گیا تو میرے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ ہوا، ایک نہیں سو بار میرے بارے میں پراپیگنڈہ کریں،میں نہ سوشل میڈیا دیکھتا ہوں نہ اْس کا اثر لوں گا ۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ میری وفاداری اپنے حلف کے ساتھ ہی رہے گی۔

انہوں نے کہاکہ ہم روز لوگ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں کئی لوگوں سے سوال پوچھ چکا، ہر ایک سے پوچھا وہ ایک مومن بتائیں جس نے نچلی عدالتوں میں سچی گواہی دی ہو۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس اسلامی معاشرے میں ابھی تک ایک وہ شخص کسی نے نہیں دکھایا ۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ضلعی کچہری اسلام آباد کی دکانوں میں قائم ہے، کسی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی اس کا کچھ کرے۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومتوں کی بھی ترجیح میں یہ عدالتیں شامل نہیں رہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…