اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

’’اپنی حفاظت کرنی ہے توخود تنخواہیں ادا کرکے خدمات حاصل کریں‘‘ حکومت نے اہم سیاستدانوں سے سرکاری محافظ واپس لے لئے

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان کی صوبائی حکومت نے اہم شخصیات (وی آئی پیز) کی حفاظت پر متعین پولیس اہلکاروں کو واپس بلا کر جنرل ڈیوٹی پہ تعینات کردیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال میں بہتری پیدا کی جا سکے۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت نے باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے صوبائی حکومت کے حوالے سے بتایا کہ وی آئی پیز کی

حفاظت کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے وہ ازخود تنخواہیں ادا کرکے نجی محافظوں (گارڈوں) کی خدمات حاصل کریں۔صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن پر عمل درآمد کی وجہ سے محمود خان اچکزئی، مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر سرفراز بگٹی، نصیر مینگل، عنایت اللہ کاسی، ڈاکٹر حامد اچکزئی، علاؤ الدین مری، جعفر مندوخیل، مطیع اللہ آغا، ماجد ابڑو اور ڈاکٹر اسحاق بلوچ سمیت دیگر اعلیٰ سیاسی شخصیات سرکاری سیکورٹی محافظوں کی خدمات مزید حاصل نہیں کرسکیں گی۔وی آئی پیز کی ڈیوٹی پر متعین بلوچستان پولیس کے 122 اہلکاروں کو واپس بلا کر جنرل ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے تنخواہیں وصول کرنے والے اہلکاروں سے شخصی ڈیوٹی لی جارہی تھی۔پولیس کے جن اہلکاروں کو شخصی ڈیوٹی کے فرائض سے ہٹایا گیا ہے ان میں صرف سیاستدانوں کے محافظ ہی شامل نہیں ہیں بلکہ متعدد ایسے بھی ہیں جو دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات، پولیس کے سابقہ و موجودہ افسران، صوبائی سیکریٹریز اور دیگر صوبوں میں فرائض سرانجام دینے والے افسران کے ہمراہ بطور گن مین متعین تھے۔حکومت بلوچستان کے فیصلے کے تحت صوبائی سیکرٹریز حافظ ماجد، قمر مسعود، صالح بلوچ، زاہد سلیم، شہریار تاج، لعل جان جعفر، شبیر مینگل  اور رزاق سنجرانی کے ساتھ متعین سرکاری محافظوں کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔ایڈیشنل آئی جی پی محمد اکرم نعیم بھروکہ کے احکامات پر ڈپٹی کمانڈنٹ منظور حسین کے دستخط سے جاری کردہ حکمنامے کے تحت صوبائی الیکشن کمشنر، وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ افسران، ڈی آئی جیز اور ایس پیز کے ساتھ متعین محافظوں کو واپس بلایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کے بھائی میر جمیل بزنجو سے بھی محافظ واپس لے لیا گیا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…