اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

لاہو رہائیکورٹ نے حافظ سعید کو بڑا ریلیف دیدیا، درج مقدمات سے متعلق بڑا حکم جاری

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن)لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم جماعت الدعو ۃکے سربراہ حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کے لیے دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا۔عدالت عالیہ میں جسٹس قاسم خان اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایک ہی نوعیت کی 24 ایف آئی آرز ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ حافظ سعید اور دیگر ہیں جبکہ میرے موکل اور دیگر نامزد لوگ دہشت گرد نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کی جن پراپرٹیز کا ایف آئی آر میں ذکر کیا گیا ہے وہ مدرسے ہیں، اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمیں اس کیس سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا، ساتھ ہی پنجاب حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔واضح رہے کہ عدالت میں جماعت الدعوۃ کی ذیلی تنظیم کے سیکریٹری ملک ظفر اقبال نے حافظ سعید سمیت 65 رہنماں کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کے لیے درخواست دائر کی تھی۔اس درخواست میں وفاقی اور پنجاب حکومت، ریجنل ہیڈ کوارٹرز سی ٹی ڈی کو فریق بنایا گیا تھا۔ملک ظفر اقبال جن کا نام پولیس رپورٹس میں بھی ہیں، ان کی طرف سے دائر درخواست کے مطابق مقدمات کا اندراج ‘بغیر قانونی اختیار کے ہے اور یہ قانونی طور پر موثر نہیں۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ جس پراپرٹی کے بارے میں سوال کیا جارہا وہ مسجد کے لیے تھی اور اسی مقصد کے لیے اس کا استعمال ہوا، لہذا درج کی گئی 23 ایف آئی آرز ‘قانونی اختیار کے بغیر ہیں ۔

۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس پراپرٹی کو ‘کبھی بھی یہ جگہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال نہیں ہوئی اور ہی ان سنگین الزامات کی حمایت میں ریکارڈ پر کوئی ناقابل تردید ثبوت ہیں ‘۔درخواست کے مطابق ان مقدمات میں حافظ محمد سعید پر کالعدم عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ کے سربراہ ہونے کا الزام ‘حقیقت میں اور قانونی طور پر بے بنیاد ہے۔عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت یہ قرار دے کہ درخواست گزاروں اور اس کے ساتھیوں کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں، لہذا یہ ایف آئی آرز ‘بغیر قانونی اختیار ہے ہیں اور یہ قانونی طور پر موثر نہیں ‘۔واضح رہے کہ 3 جولائی کو کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور نائب امیر عبدالرحمن مکی سمیت اعلی قیادت کے 13 رہنمائوں پر انسانی دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے تقریبا 2 درجن سے زائد کیسز درج کیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…