جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

اب بہو تلاش کریں آن لائن ڈیٹنگ ویب پیجزپر

datetime 11  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) عام طور پر آن لائن ڈیٹنگ ویب پیجز یا ایپس نوجوان افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہیں جن کا مقصد جوڑے کی تکمیل کیلئے نوجوانوں کو ساتھی کے چناو¿ کیلئے ایک مناسب پلیٹ فارم مہیا کرنا ہوتا ہے لیکن اب ایک ایسی آن لائن ڈیٹنگ ویب سائٹ سامنے آئی ہے جو کہ اپنے یوزرز کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پارٹنر تلاش کرنے میں مدد دیں۔اس ویب سائٹ کو تیار کرنے والی خاتون کی اپنی عمر بھی67 برس ہے اور انہیں اپنے بیٹے کیلئے ایک مناسب بیوی کی تلاش تھی۔ اسی خیال نے انہیں ایک ایسی ڈیٹنگ ویب سائٹ کا مالک بنا ڈالا۔ دراصل گیری برن جو کہ ویب سائٹ کی مالک ہیں، پہلے سے ہی خواتین کیلئے ایک ویب سائٹ چلا رہی ہیں۔ جہاں آرائش حسن سے لے کے خواتین کی صحت کے مسائل تک ہر طرح کے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔ یہیں سے انہیں یہ اندازہ ہوا کہ کچھ مائیں سنجیدگی سے اپنے پارٹنر کی تلاش میں اپنے بچوں کی مدد کرنا چاہتی ہیں لیکن مناسب پلیٹ فارم نہ ہونے کے سبب وہ ایسا نہیں کرپاتی ہیں۔ گیری کی موجودہ ویب سائٹ کا نام فیب اوور ففٹی ڈاٹ کام ہے اور نئی ویب سائٹ اسی پیج کا ایک ذیلی حصہ ہے۔ اس ویب سائٹ کو ضرورت رشتہ کی ویب سائٹس اور ڈیٹنگ ویب سائٹس کی ایک مجموعی شکل بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ گیری برن کی اس ویب سائٹ پر غیر شادی شدہ افراد کے لیے پارٹنر ڈھونڈنے سے متعلق جو اشتہارات دیے جاتے ہیں وہ بذات خود پارٹنر کی تلاش کے خواہشمند مردوں اور عورتوں کی طرف سے نہیں بلکہ ان کی ماو¿ں کی طرف سے ہوتے ہیں۔
گیری کہتی ہیں کہ اس ڈیٹنگ ویب سائٹ پر مائیں اپنے بچوں کے لیے پارٹنر تلاش کرنے میں ان کی مدد کرسکتی ہیں اور خود انہوں نے بھی اپنی ہی ویب سائٹ پر اپنے بیٹے کولبی کے بارے میں بھی اشتہار دیا ہے۔ گیری کے مطابق انہوں نے یہ اشتہار اپنے بیٹے کی رضامندی سے دیا تھا اور ان کے مطابق ان کا بیٹا اس خیال سے بے حد خوش تھا کیونکہ وہ گھر بسانے میں سنجیدہ تھا اور اسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کی والدہ کا مشورہ یقینی طور پر بہتر پارٹنر کی تلاش میں مددگار ہوگا۔ مشرقی ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کیلئے عین ممکن ہے کہ یہ ویب پیج زیادہ انوکھا نہ ہو کیونکہ ان ممالک میں عام طور پر والدین ہی شادی بیاہ کے معاملات طےکرتے ہیں تاہم مغربی ممالک کے لئے یہ رجحان بالکل نیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس ویب سائٹ کے لانچ ہوتے ہی امریکہ ، برطانیہ کے علاوہ آسٹریلوی ماﺅں کی بڑی تعداد نے بھی پروفائل بنانے میں دلچسپی لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…