جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

اب بہو تلاش کریں آن لائن ڈیٹنگ ویب پیجزپر

datetime 11  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) عام طور پر آن لائن ڈیٹنگ ویب پیجز یا ایپس نوجوان افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہیں جن کا مقصد جوڑے کی تکمیل کیلئے نوجوانوں کو ساتھی کے چناو¿ کیلئے ایک مناسب پلیٹ فارم مہیا کرنا ہوتا ہے لیکن اب ایک ایسی آن لائن ڈیٹنگ ویب سائٹ سامنے آئی ہے جو کہ اپنے یوزرز کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پارٹنر تلاش کرنے میں مدد دیں۔اس ویب سائٹ کو تیار کرنے والی خاتون کی اپنی عمر بھی67 برس ہے اور انہیں اپنے بیٹے کیلئے ایک مناسب بیوی کی تلاش تھی۔ اسی خیال نے انہیں ایک ایسی ڈیٹنگ ویب سائٹ کا مالک بنا ڈالا۔ دراصل گیری برن جو کہ ویب سائٹ کی مالک ہیں، پہلے سے ہی خواتین کیلئے ایک ویب سائٹ چلا رہی ہیں۔ جہاں آرائش حسن سے لے کے خواتین کی صحت کے مسائل تک ہر طرح کے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔ یہیں سے انہیں یہ اندازہ ہوا کہ کچھ مائیں سنجیدگی سے اپنے پارٹنر کی تلاش میں اپنے بچوں کی مدد کرنا چاہتی ہیں لیکن مناسب پلیٹ فارم نہ ہونے کے سبب وہ ایسا نہیں کرپاتی ہیں۔ گیری کی موجودہ ویب سائٹ کا نام فیب اوور ففٹی ڈاٹ کام ہے اور نئی ویب سائٹ اسی پیج کا ایک ذیلی حصہ ہے۔ اس ویب سائٹ کو ضرورت رشتہ کی ویب سائٹس اور ڈیٹنگ ویب سائٹس کی ایک مجموعی شکل بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ گیری برن کی اس ویب سائٹ پر غیر شادی شدہ افراد کے لیے پارٹنر ڈھونڈنے سے متعلق جو اشتہارات دیے جاتے ہیں وہ بذات خود پارٹنر کی تلاش کے خواہشمند مردوں اور عورتوں کی طرف سے نہیں بلکہ ان کی ماو¿ں کی طرف سے ہوتے ہیں۔
گیری کہتی ہیں کہ اس ڈیٹنگ ویب سائٹ پر مائیں اپنے بچوں کے لیے پارٹنر تلاش کرنے میں ان کی مدد کرسکتی ہیں اور خود انہوں نے بھی اپنی ہی ویب سائٹ پر اپنے بیٹے کولبی کے بارے میں بھی اشتہار دیا ہے۔ گیری کے مطابق انہوں نے یہ اشتہار اپنے بیٹے کی رضامندی سے دیا تھا اور ان کے مطابق ان کا بیٹا اس خیال سے بے حد خوش تھا کیونکہ وہ گھر بسانے میں سنجیدہ تھا اور اسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کی والدہ کا مشورہ یقینی طور پر بہتر پارٹنر کی تلاش میں مددگار ہوگا۔ مشرقی ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کیلئے عین ممکن ہے کہ یہ ویب پیج زیادہ انوکھا نہ ہو کیونکہ ان ممالک میں عام طور پر والدین ہی شادی بیاہ کے معاملات طےکرتے ہیں تاہم مغربی ممالک کے لئے یہ رجحان بالکل نیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس ویب سائٹ کے لانچ ہوتے ہی امریکہ ، برطانیہ کے علاوہ آسٹریلوی ماﺅں کی بڑی تعداد نے بھی پروفائل بنانے میں دلچسپی لی۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…