بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

معمر قذافی کا وہ منصوبہ جو ان کے قتل کی وجہ بنا،مرنے سے پہلے ان کی زبان پر آخری الفاظ کیاتھے اور ان کو مارنے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟برسوں بعدسراغ مل گیا، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کوجب قتل کیا گیا اس وقت ان کی زبان پر یہ الفاظ تھے: ’’میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟‘‘گزشتہ دنوں پرانی خفیہ ای میلزسامنےآئی ہیں جنہیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ معمر قذافی کو اس لئےبیدردی سے قتل کیا گیا کیونکہ فرانس افریقی ممالک میں اپنی مالی دھاک برقرار رکھنا چاہتا تھا۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی 2016ء میں سامنے آنے والی خفیہ ای میلز کا حصہ محکمہ خارجہ نے جاری کیا ۔ ان جاری کردہ ای میلز کی تعداد 3ہزار ہے۔ ان خطوط کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ مغربی ممالک نے نیٹو کو معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے استعمال کیا۔ نیٹو کی جانب سے قذافی کا تختہ الٹنا عوام کی فلاح کیلئے کیا جانے والا اقدام نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد قذافی کو سونے کی بنیاد پر افریقی خطے میں فرانسیسی اور یورپی کرنسی کی طرح مقامی مشترکہ کرنسی متعارف کرانے سے روکنا تھا کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں مغربی مرکزی بینکاری کی اجارہ داری ختم ہونے کا خدشہ تھا۔ فارن پالیسی جرنل کا کہنا ہے کہ ای میل میں سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کو لیبیا پر حملہ کرنے کے خواہشمندوں میں سر فہرست بتایا گیا ۔ اس ای میل میں پانچ بنیادی مقاصد ذہن میں رکھنے کیلئے کہا گیا ہے: لیبیا کا تیل حاصل کرنا، خطے میں فرانس کا اثر رسوخ برقرار رکھنا، ملک میں داخلی سطح پر نکولس سرکوزی کی ساکھ بہتر کرنا، فرانسیسی عسکری قوت کو اجاگر کرنا اور قذافی کے افریقی خطے میں اثر ورسوخ بڑھانے کو روکنا،شامل ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…