بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

مظاہرین کا کنٹرول لائن عبور کرنے کیلئے مارچ تیسرے روز بھی جاری ،فضابھارت مخالف نعروں سے گونج اٹھی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

مظفر آباد(اے این این ) بھارت کے زیر حراست حریت رہنما یاسین ملک کی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف)کے اہتمام لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی جانب ہزاروں افراد کا قافلہ آزاد کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ پہنچ گیا۔تفصیلات کے مطابق اتوار کو جے کے ایل ایف نے آزاد کشمیر کے علاقے گڑھی دو پٹہ سے سے آزادی مارچ کا دوبارہ آغاز کیا۔

یہ قافلہ گزشتہ رات کو دارالحکومت مظفر آباد سے گڑھی دوپتہ پہنچا تھا۔مارچ کے شرکاء کی منزل چکوٹھی کے قریب کنٹرول لائن جسے مظاہرین عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے ۔مارچ میں شریک افراد نے 4 اکتوبر کو آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کے ذریعے ایل او سی کی جانب سفر کا آغاز کیا تھا اور جمعہ کی شب مظفر آباد میں گزارنے کے بعد ہفتہ کو گڑھی دوپٹہ پہنچے تھے جہاں رات قیام کے بعد سفر کا از سر نو آغاز کیا گیا ۔اس دوران مارچ کے شرکا نے سابق چیئرمین جے کے ایل ایف امان اللہ خان اور موجودہ چیئرمین یسین ملک کی تصاویر بھی تھامی ہوئی تھیں اور ساتھ ہی کشمیر بنے گا خود مختار کے نعرے بھی بلند کیے۔علاوہ ازیں مارچ میں شریک افراد نے ایک بڑا بینر بھی تھاما ہوا تھا جس پر لکھا تھا اقوام متحدہ: کشمیر کو آپ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔کچھ شرکا کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر درج تھا اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق رائے دہی دلانے کے لیے جموں و کشمیر کو کنٹرول سنبھالے۔مارچ کے شرکا جب بینک روڈ سے گزرے تو تجارتی رہنمائوں شوکت نواز میر اور عباس قادری نے ان پر گلاب کی پتیاں بھی نچھاور کیں۔دو روز قبل آزاد کشمیر کے وزرا نے جے کے ایل ایف کے رہنمائوں سے ملاقات کی تھی اور مارچ کے شرکا سے ایل او سی کے قریب نہ جانے اور اسے پار نہ کرنے کی اپیل کو دہرایا تھا۔

جس پر جے کے ایل ایف کے رہنماؤں نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ایل او سی کی جانب سفر کے دوران پرامن رہیں گے۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت نے ان سے رابطہ کیا تھا اور ان کا موقف معلوم کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مبصرین کو پرامن مارچ کے مقاصد سے آگاہ کرنے کے علاوہ ہم نے اقوام متحدہ سے مقبوضہ جموں کشمیر کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے امن فورسز بھیجنے اور اور اقوام متحدہ کی جانب سے ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ دہرایا ۔

محمد رفیق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کو 21 اپریل 1948 کو منظور کی گئی قرارداد نمبر 47 کا پیرا نمبر 2 بھی یاد دلایا جس میں ایل او سی پار کرنا ایک قانونی سرگرمی قرار دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جے کے ایل ایف نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اقوام متحدہ، پاکستان اور بھارت کو پرامن مارچ کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال نہ کرنے پر رضامند کرے۔علاوہ ازیں مارچ کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ایل او سی کے قریب چناری کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ایل او سی سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر جسکول کے مقام پر آزاد کشمیر کی انتظامیہ کی جانب سے ہر قسم کی گاڑیوں کا راستہ روکنے کے لیے کنٹینرز بھی لگائے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…