اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

ملک بھرمیں ٹوکن ٹیکس آن لائن وصول کرنے کا فیصلہ، گاڑی مالکان اپنے اپنے شہروں میں ہی گاڑیوں کو ٹوکن ٹیکس ادا کریں گے،تفصیلات جاری

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس آن لائن وصول کرنے کا فیصلہ کر لیا ملک بھر میں تمام گاڑی مالکان اپنے اپنے شہروں میں ہی گاڑیوں کو ٹوکن ٹیکس ادا کریں گے،ذرائع کے مطابق چیف کمشنراسلام ا آباد عامرعلی احمدنے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا کہ اسلام آبادکے دفترایکسائز میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس بھی  آ ن لائن وصول کیا جائے

تاکہ شہریوں کو سہولیات میسرہوں،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سفارشات منظور ہوچکی ہیں  آئندہ چند دنوں میں آن لائن ٹوکن ٹیکس وصولی کیلئے سروس شروع ہو جائے گی،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے گاڑیوں کے مالکان اپنے اپنے شہر میں نیشنل بنک کی کسی بھی برانچ میں ٹوکن ٹیکس ادا کرسکیں گے۔یاد رہے کہ قبل ازیں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی آن لائن شروع کررکھی ہے جس کی وجہ سے دفترمیں ٹاؤٹ مافیاکاخاتمہ ہوا اب ٹوکن ٹیکس آن لائن ہونے کی وجہ سے مالکان ملک کے کسی بھی نیشنل بنک میں ٹوکن ٹیکس ادا کرسکیں گے،دوسری جانب چیف کمشنر کی ہدایت پر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن دفتر کے اندر ٹاؤٹ مافیا کا داخلہ بند کر دیا گیا اور شہریوں سے ڈائریکٹر ایکسائز نے کہا ہے کہ دفتر کے اندر کوئی بھی ٹاؤٹ نظر آئے تو انہیں آگاہ کریں تاکہ ان کیخلاف کارروائی کی جاسکے،قبل ازیں 8ٹاؤٹوں کیخلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کروا دیا گیا تھا۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس آن لائن وصول کرنے کا فیصلہ کر لیا ملک بھر میں تمام گاڑی مالکان اپنے اپنے شہروں میں ہی گاڑیوں کو ٹوکن ٹیکس ادا کریں گے،ذرائع کے مطابق چیف کمشنراسلام ا آباد عامرعلی احمدنے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا کہ اسلام آبادکے دفترایکسائز میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس بھی  آ ن لائن وصول کیا جائے تاکہ شہریوں کو سہولیات میسرہوں،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…