اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

میرے ساتھ ماضی کیا ہوتا رہا، چاربچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر نے والے ملزم نے زبان کھول دی،افسوسناک انکشافات

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

چونیاں (این این آئی) چار بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مرکزی ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ وہ خود نوعمری میں زیادتی کا شکار ہوتا رہا۔پولیس کے مطابق ملزم نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ تندور پر روٹیاں لگانے والا اس کا استاد اسلم اسے  12 سال زیادتی کا نشانہ بناتا رہا،

اسلم ایک کینٹین میں تندور پر کام کرتا تھا۔ملزم نے انکشاف کیا کہ اسے بچپن میں کئی لوگوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا، وہ زیادتی کرنے والے کئی افراد کے اب نام بھی نہیں جانتا۔پولیس کے مطابق ملزم سہیل کے بیان کی روشنی میں ملزم اسلم کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔چونیاں میں چار بچوں کے قتل کے مرکزی ملزم کی گرفتاری پر ڈی آئی جی سہیل حبیب نے قتل ہونے والے بچوں عمران، علی حسنین، سلمان اورفیضان کے والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ رانا ٹاون چونیاں کے رہائشی 27 سالہ سہیل شہزاد کا ڈی این اے چاروں بچوں سے میچ کیا ہے، ملزم نے سب سے پہلے 3 جون کو 12 سالہ عمران کو اغوا کے بعد زیادتی کرکے قتل کیا، ملزم سہیل شہزاد نے علی حسنین، سلمان اور فیضان کو بھی زیادتی کے بعد قتل کیا۔ڈی آئی جی پولیس کیمطابق ملزم سہیل شہزاد سمیت چار بھائی اور تین بہنیں ہیں، والدین بھی حیات ہیں، ملزم نجی اسکول میں سیکیورٹی گارڈ بھی رہا اور رکشہ ڈرائیور بھی، ملزم وقوعہ کے بعد لاہور میں ایک تندور پرروٹیاں لگاتا رہا، ملزم کو 29 ستمبر کو گرفتار کیا گیا جو ڈی این اے کے ڈر سے لاہور فرار ہو رہا تھا۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ ملزم کے خلاف 2011 میں بھی زیادتی کا مقدمہ درج تھا، اور ملزم غیر شادی شدہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…