اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا گیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

راولپنڈی(آن لائن)راولپنڈی کے عوام اور تاجروں نے بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف احتجاج تحریک کا آغاز کر دیا جس کی ابتدا گزشتہ روز صادق آباد چوک سے کی گئی اس مقصد کے لئے منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں کری روڈاور صادق آبادکے تاجروں کے علاوہ اوریونین کونسل26اور28کے رہائشیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرے کی قیادت انجمن تاجران راولپنڈی کے صدر شاہد غفور پراچہ، فرنیچرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدرمحمد تاج عباسی،اکرام گوشی،راجہ جاوید،سردار ثاقب نے کی مظاہرین نے بجلی کے ادا شدہ بل دوبارہ آنے پر

صادق آباد چوک میں آئیسکو کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور چاروں اطراف کی تریفک بلاک کر دی مقررین کا موقف تھا کہ بجلی کے بلوں کو دوبارہ ماہ ستمبر کے بل میں شامل کر کے ہزاروں او ر لاکھوں روپے کے بل بھیج دیئے گئے جس سے غریب دوکانداروں اور عوام کے لئے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے انہوں نے آئیسکو کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ2 دن میں اس مسئلے سے تاجروں اور عوام کی داد رسی نہ کی گئی تو اگلے مرحلے میں چاندنی چوک میں احتجاج کے دوران مری روڈ پر دھرنا دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…