اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

حیدر آباد فنڈ کیس، برطانوی عدالت نے پاکستان اور بھارت کے دعوؤں کو مسترد کر دیا، حیران کن فیصلہ سنا دیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

لندن (این این آئی)برطانیہ کی ہائی کورٹ آف جسٹس نے پاکستان اور بھارت کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے حیدر آباد فنڈ کیس کا فیصلہ نظام آف حیدرآباد کے ورثا کے حق میں دیدیا۔ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق‘پاکستان کو حیدر آباد فنڈ کیس پر برطانیہ کی ہائی کورٹ آف جسٹس کے فیصلے مل گیا ہے

جو جون 2019 میں دو ہفتے زیرسماعت رہا تھا۔پاکستان اور بھارتی حکومت کے دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہاکہ فیصلے میں دونوں مرکزی فریقین کے طویل عرصے سے موجود دعووں کو مسترد کردیا گیا ہے اور نظام آف حیدرآباد کے ورثا کے دعووں کو برقرار رکھا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق فیصلے میں رقم کی منتقلی کے تاریخی سیاق و سباق سے متعلق نہیں ہے جبکہ بھارت نے عالمی قوانین اور تہذیبی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حیدرآباد کو غیر قانونی طور پر شامل کرلیا تھا۔بیان میں کہا گیاکہ بھارت نے نظام آف حیدر آباد کو اپنے عوام اور ریاست کو بھارتی مداخلت سے بچانے کے لیے انتہائی اقدامات کرنا پڑے۔دفترخارجہ کے مطابق نظام نے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اٹھایا جہاں یہ معاملہ تاحال ایجنڈے میں ہے۔بیان میں کہا گیا کہ نظام نے خودمختار کی حیثیت سے پاکستان سے تعاون طلب کی اور حکومت پاکستان نے فراہم کردی تھی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان تفصیلی فیصلے کے تمام پہلووں کا جائزہ لے رہا ہے اور قانونی مشاورت سے مزید اقدامات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…