جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

روشن مستقبل کی تلاش میں قطر آنے والے ہزاروں تارکین وطن فاقوں پر مجبور،بیشتر کا تعلق کن ممالک سے ہے؟چونکا دینے والے انکشافات

datetime 2  اکتوبر‬‮  2019 |

دوحہ(این این آئی)قطر میں صرف تین برسوں بعد فٹ بال ورلڈ کپ چیمپئن شپ کا انعقاد ہو رہا ہے،امریکی نشریاتی ادارے نے انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسیٹی انٹرنیشنل کے حوالے سے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مختلف تنصیبات اور عماریتں کی تعمیر کی تعمیر کے لیے دوسرے ملکوں سے آنے والے بہت سے کارکن ابھی تک اپنی اجرتیں وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے

مطابق کچھ واقعات تو ایسے بھی ہیں کہ کارکنوں کو کئی کئی ماہ اور کئی سال کام کرنے کے بعد بھی ابھی تک اجرتیں نہیں ملیں اور وہ مایوس ہو کر اپنے تنخوائیں لیے بغیر خالی ہاتھ گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا اور بین الاقوامی کمیونٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2022 کے عالمی کپ سے پہلے قطر پر با معنی اصلاحات کے لیے مزید دبا ڈالے۔2022 میں عالمی کپ کی میزبانی کرنے والے ملک میں تارکین وطن کارکنوں کی حالت زار کی جانب دنیا کی توجہ مبذول ہو رہی ہے، جن میں سے بہت سے اس وقت اسٹیڈیم اور انفرا اسٹرکچر تعمیر میں مصروف ہیں۔ اس بارے میں بہت سی شکایات موجود ہیں کہ مزدوروں کو ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں، وہ بہت خراب حالات میں اور خطرناک تعمیراتی مقامات پر رہ رہے ہیں۔عالمی تنقید کے بعد قطر کی حکومت 2018 میں کارکنوں کے حقوق کی اصلاحات پر رضامند ہو گئی تھی اور اس نے مزدوروں کے تنازعات کے حل کے لیے کمیٹیاں اور ان کارکنوں کی مدد کے لیے ایک انشورنس فنڈ قائم کیا تھا جو اپنے آجروں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ایک عہدے دار مے رامنوس کا کہنا تھا کہ کاغذات پر تو سب ٹھیک لگتا ہے، تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب کارکنوں کو اپنی تنخواہیں نہیں ملتیں اور وہ اپنے مقدمات عدالت میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ایک طویل قانونی جنگ میں الجھ جاتے ہیں، اور عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ حاصل کرنے میں انہیں ابھی تک تین سے آٹھ ماہ لگ رہے ہیں۔ اور اس کے بعد بھی انہیں آخر میں رقم نہیں ملتی۔ ان میں سے بہت سے یا تو امید کا دامن چھوڑ کر خالی ہاتھ وطن واپس چلے جاتے ہیں یا انتہائی مشکل حالات میں قطر میں قیام کرتے ہیں، اس امید پر کہ انہیں یہ رقم مل جائے گی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…